Brailvi Books

نحو مِير
128 - 202
سبق نمبر: 26

(۔۔۔۔۔۔مستثنیٰ کا بیان(۱)۔۔۔۔۔۔)
مستثنیٰ کی تعریف(۲):

    وہ لفظ(۳)جو اِلَّا یا اس کی طرح کے دیگرکلمات استثناء میں سے کسی کے بعداس لیے ذکر کیاجائے تاکہ یہ ظاہر ہوجائے کہ اس کی طرف وہ حکم منسوب نہیں جو اس سے پہلے والے لفظ کی طرف منسوب ہے ۔

کلماتِ استثنائیہ یہ ہیں :
    اِلَّا، غَیْرُ، سِوَی، سِوَاءَ، حَاشَا، خَلاَ، عَدَا، مَاخَلاَ، مَاعَدَا، لَیْسَ، لَا یَکُوْنُ۔
مستثنیٰ کی اقسام

    مستثنیٰ کی دو قسمیں ہیں : (۱)۔۔۔۔۔۔مستثنیٰ متصل (۲)۔۔۔۔۔۔مستثنیٰ منقطع۔

(الف)۔۔۔۔۔۔مستثنیٰ متصل کی تعریف:

     وہ مستثنیٰ جسے اِلَّا وغیرہ کے ذریعہ متعدد افراد کے حکم سے خارج کیا
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔خیال رہے کہ مستثنیٰ کی بحث ''نحو میر''میں نہ تھی، طلباء کے فائدہ کے لیے اس کا اضافہ کیا گیا ہے۔

2۔۔۔۔۔۔ مستثنیٰ :وہ اسم ہے جواِلَّا اور اس جیسے دیگر الفاظ کے بعد واقع ہو،تا کہ معلوم ہو کہ جو حکم ماقبل کی طرف منسوب ہے وہ اس کی طرف منسوب نہیں ہے۔(ف)حرف استثناء کے ماقبل کو''مستثنی منہ''اور ما بعدکو ''مستثنیٰ''کہتے ہیں۔

3۔۔۔۔۔۔ : وہ لفظ ہے الخ یہاں لفظ سے مراد اسم ہے؛ کیونکہ مستثنیٰ ہونا اسم کا خاصہ ہے ۔اسی طرح مستثنیٰ منہ ہونابھی اسم ہی کا خاصہ ہے، فعل اور حرف نہ مستثنیٰ ہوتے ہیں نہ مستثنیٰ منہ۔
Flag Counter