Brailvi Books

نحو مِير
126 - 202
دلالت کرتاہے کہ)انتفائے اول کے سبب ثانی بھی منتفی ہے۔جیسے :
لَوْکَانَ فِیۡہِمَاۤ اٰلِہَۃٌ اِلَّا اللہُ لَفَسَدَتَا ۔
 (۱۳)۔۔۔۔۔۔حرف لَوْلَا(۱):(یہ بھی دوچیزوں پرداخل ہوتاہے جن میں سے پہلی موجود ہوتی ہے اور دوسری منتفی اور اس بات پردلالت کرتاہے کہ )وجوداول کے سبب ثانی منتفی ہے۔جیسے:
لَوْلاَ عَلِیٌّ لَھَلَکَ عُمَرُ۔
 (۱۴)۔۔۔۔۔۔لام مفتوحہ برائے تاکید(۲)۔ جیسے :
لَزَیْدٌ أَفْضَلُ مِنْ عَمْروٍ۔
 (۱۵)۔۔۔۔۔۔مَا بمعنی مَادَامَ(۳)۔ جیسے:
أَقُوْمُ مَاجَلَسَ الْاَمِیْرُ۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* نہ جز اء ۔ (لَوْ کَانَ فِیہِمَا آلِہَۃٌ إِلَّا اللَّہُ لَفَسَدَتَا) (اگر زمین وآسمان میں اثر کرنے والے متعدد خدا ہوتے تو زمین وآسمان تباہ ہو جاتے)یعنی نہ زمین میں فساد ہے اور نہ ان میں اثر کرنے والے متعدد خداہیں۔ 

1۔۔۔۔۔۔حروف غیر عاملہ کی تیرہویں قسم''لَوْلَا''ہے۔ اس سے پہلے گزر چکا کہ لَوْ شرط اور جزا ء دونوں کے انتفاء پر دلالت کرتاہے ،جب لَوْ کے بعد لَا آتا ہے تو شرط منفی کی نفی ہوجاتی ہے جس کا مطلب یہ ہوتاہے کہ شرط موجود ہے۔ لَوْلَا اس بات پر دلالت کرتاہے کہ دوسرے جملہ کا مضمون اس لیے منتفی ہے کہ پہلے جملہ کا مضمون موجود ہے۔ (ف)خیال رہے کہ نحوی حضرات لَوْلَا کے بعد آنے والے دوسرے جملے کو ''جوابِ لَوْلَا''کہتے ہیں اور چونکہ یہ حرف شرط نہیں ہے اس لیے پہلے جملے کو شرط نہیں کہتے ۔جیسے:لَوْلَا عَلِیٌّ لَھَلَکَ عُمَرُ(اگر علی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہوجاتا۔) پہلے جملہ کا مضمون ہے ''وجودِ علی''اور دوسرے جملہ کا مضمون ہے''ہلاکتِ عمر''۔ یعنی عمر کی ہلاکت اس لیے نہیں پائی گئی کہ علی موجود تھے رضی اللہ تعالی عنہما۔ 

2۔۔۔۔۔۔حروف غیر عاملہ کی چودہویں قسم ''لام تاکید ''ہے جو مفتوح ہوتاہے۔ جیسے:لَزَیْدٌ اَفْضَلُ مِنْ عَمْرٍو(بے شک زید عمرو سے زیادہ فضیلت والا ہے ۔) 

3۔۔۔۔۔۔حروف غیر عاملہ کی پندرہویں قسم مَا بمعنی مَادَامَ ہے۔ حروف مصدر یہ میں مَا کا ذکر ہو چکاہے۔
Flag Counter