Brailvi Books

نحو مِير
125 - 202
ان میں سے آخری چارحروف کاذکر حروف جر میں ہوچکاہے۔

(۱۲)۔۔۔۔۔۔حروف شرط(۱): 

    یہ دو حروف ہیں :
اَمَّا، لَوْ۔

     اَمَّا
تفسیرکے لیے ہے اور اس کے جواب میں فاء کا لانا واجب ہے۔ جیسے اللہ تعالی کافرمان عالیشان ہے:
فَمِنْھُمْ شَقِیٌّ وَّسَعِیْدٌ فَأَمَّا الَّذِیْنَ شَقُوْا فَفِی النَّارِ وَأَمَّا الَّذِیْنَ سُعِدُوْا فَفِی الْجَنَّۃِ۔
               اورحرف لَوْ(۲)(دو منتفی چیزوں پرداخل ہوتاہے اور اس بات پر
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

 1۔۔۔۔۔۔حروف غیر عاملہ کی بارہویں قسم ''حروف شرط ''ہے۔ اور یہ دو ہیں :(۱)أَمَّا(۲)لَوْ اِنْ بھی اگرچہ حروف شرط میں سے ہے لیکن وہ عامل ہے اوریہاں چونکہ حروف غیر عاملہ کا بیان ہے اس لیے اِنْ کو شمار نہیں کیاگیا۔ اَمَّا تفصیل کے لیے آتاہے جس کے دو معنی ہیں :(۱)کلام سابق کے اجمال کی وضاحت کے لیے آتاہے۔ جیسے ارشاد باری تعالی ہے:(فَمِنْھُمْ شَقِیٌّ وَّسَعِیْدٌ) (ان میں سے کچھ بدبخت ہیں اور کچھ نیک بخت )اس میں اجمال یہ ہے کہ ان کا حکم (اور انجام)کیا ہے اَمَّا سے اس کی تفصیل بیان فرمائی :(فَاَمَّا الَّذِیْنَ شَقُوْا فَفِیْ النَّارِ) (لیکن بدبخت جہنم میں ہوں گے)یز فرمایا:(وَاَمَّا الَّذِیْنَ سُعِدُوْا فَفِی الْجَنَّۃِ) (اورنیک بخت جنت میں ہوں گے۔) (۲) چند چیزوں کا الگ الگ ذکر کر کے ان کا حکم بیان کردیا جاتاہے۔ جیسے ارشاد باری تعالی ہے:(فَأَمَّا الَّذِینَ آمَنُواْ فَیَعْلَمُونَ أَنَّہُ الْحَقُّ مِن رَّبِّہِمْ وَأَمَّا الَّذِینَ کَفَرُواْ فَیَقُولُونَ مَاذَا أَرَادَ اللَّہُ بِہَـذَا مَثَلاً) (لیکن ایمان والے پس وہ جانتے ہیں کہ وہ (مثال)حق ہے ان کے رب کی طرف سے لیکن کافر پس وہ کہتے ہیں کہ اس مثال سے اللہ کی مراد کیا ہے)(ف)بعض اوقات اَمَّا استیناف کے لیے آتاہے جیسے ابتدائے کلام میں آنے والا اَمَّاجیسے نحو میر کے شروع میں فرمایا تھا:اَمَّا بَعْدُ۔ (ف)اَمَّا تفصیل کے لیے ہو یا استیناف کے لیے معنی شرط اس سے جدا نہیں ہوتا اور اس کے جواب میں فاء کا لانا واجب ہے۔ 

2۔۔۔۔۔۔لَوْ دو جملوں پر آتاہے جن میں سے پہلا شرط اور دوسرا جزا ء ہوتاہے۔اوریہ شرط وجزا ء دونوں کے انتفاء پر دلالت کرتاہے۔ یعنی اس بات پر دلالت کرتاہے کہ نہ شرط پائی جارہی ہے اور  *
Flag Counter