Brailvi Books

نحو مِير
124 - 202
وَقُوْلِیْ اِنْ أَصَبْتُ لَقَدْ أَصَابَنْ
خیال رہے تنوین ترنم اسم فعل اورحرف تینوں پر داخل ہوتی ہے جبکہ پہلی چار قسم کی تنوین اسم کے ساتھ خاص ہے۔

(۱۰)۔۔۔۔۔۔نون تاکید(۱):

    یہ نون ثقیلہ و خفیفہ ہوتاہے جو فعل مضارع کے آخر میں تاکید کے لیے آتا ہے۔ مثلاً:
اِضْرِبَنَّ، اِضْرِبَنْ(۲)۔
(۱۱)۔۔۔۔۔۔حروف زائدہ(۳):

    یہ آٹھ حروف ہوتے ہیں:
اِنْ، مَا، اَنْ، لَا، مِنْ، کَاف، باء، لام۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔حروف غیر عاملہ کی دسویں قسم''نون تاکید ''ہے۔ یعنی وہ نون جو فعل مضارع کے آخر میں آتاہے۔ اس کی دو قسمیں ہیں :(۱)ثقیلہ ۔یہ مشدد ہوتاہے۔ جیسے:اِضْرِبَنَّ(۲)خفیفہ ۔یہ ساکن ہوتاہے۔ جیسے:اِضْرِبَنْ۔ 

2۔۔۔۔۔۔اگر کہیے کہ مصنف نے فرمایا کہ''نون تاکید فعل مضارع کے آخر میں آتاہے''اور مثالیں فعل امر کی پیش کی ہیں لہذا یہ مثالیں ممثل لہ کے مطابق نہیں ۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں فعل مضارع سے مراد فعل مستقبل ہے جو آنے والے زمانہ پر دلالت کرتاہو خواہ طلب پر دلالت کرے۔ جیسے:اِضْرِبَنْ، لاَ تَضْرِبَنَّ وغیرہ۔یا طلب پر دلالت نہ کرے۔ جیسے :یَضْرِبَنَّ، یَضْرِبَنْ۔ 

3۔۔۔۔۔۔حروف غیر عاملہ کی گیارہویں قسم''حروف زائدہ ''ہے ۔اور وہ آٹھ حروف ہیں جو ''نحو میر''میں مذکور ہیں۔چونکہ ان حروف کو کلام سے جدا کردینے کی صورت میں بھی اصل معنی میں تبدیلی نہیں آتی اس لیے انہیں'' حروف زیادت'' کہتے ہیں۔ جیسے: ؎

    مَا اِنْ مَدَحْتُ مُحَمَّداً بِمَقَالَتِیْ        لٰکِنْ مَّدَحْتُ مَقَالَتِیْ بِمُحَمَّدٍ

یعنی'' میں نے اپنے کلام سے حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی مدح نہیں کی بلکہ میں نے تو آپ کے ذکر سے خوداپنے کلام کو زینت دی ہے''۔اس میں مَا کے بعد اِنْ زائدہ ہے۔ (لاَ اُقْسِمُ بِھٰذَا الْبَلَدِ) (مجھے قسم ہے اس شہر کی )اس میں لَا زائدہ ہے ۔ (ف)خیال رہے کہ ان حروف کے زائد ہونے کا مطلب یہ ہے کہ یہ کبھی زائد بھی ہوتے ہیں یہ مطلب نہیں کہ ہمیشہ زائد ہی ہوتے ہیں۔
Flag Counter