Brailvi Books

نحو مِير
123 - 202
    (۲)تنوین تنکیر۔جیسے:صَہٍ۔ یعنی:
اُسْکُتْ سُکُوْتاً مَّا فِیْ وَقْتٍ مَّا(۱)
جبکہ صَہْ (بغیرتنوین کے )اس کا معنی ہے :
اُسْکُتِ السُکُوْتَ اَلْآن(۲)۔
    (۳)تنوین عوض ۔جیسے: یَوْمَئِذٍ(۳)۔

    (۴)تنوین مقابلہ۔جیسے:مُسْلِمَاتٌ۔

    (۵)تنوین ترنّم۔وہ تنوین جواشعار کے آخر میں آتی ہے :
                 اَقِلِّی  اللَّوْمَ  عَاذِلَ  وَالْعِتَابَنْ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* چپ رہ)پہلی صورت میں وقت معین نہ تھا دوسری صورت میں معین ہے۔ (۳)تنوین عوض :وہ تنوین جو مضاف الیہ محذوف کے عوض میں لائی جائے۔جیسے:حِیْنَئِذٍ یہ اصل میں حِیْنَ إِذْ کَانَ کَذَاتھا،اِذْکا مضاف الیہ حذف کردیاگیاجو جملہ تھااور اس کے عوض میں مضاف کو تنوین دیدی لہٰذا یہ حِیْنَئِذٍ ہوگیا۔ قرآن کریم میں فرمایا:(تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَہُمْ عَلَی بَعْضٍ)اس میں بَعْضٍ اصل میں بَعْضِہِمْ ہے مضاف الیہ کو حذف کرکے مضاف کو تنوین عوض دیدی گئی ۔ (۴)تنوین مقابلہ :یعنی وہ تنوین جو جمع مؤنث سالم پر آتی ہے ۔جیسے:مُسْلِمَاتٌ۔یہ جمع مذکر سالم میں جو نون آتاہے اس کے مقابلہ میں ہوتی ہے۔(۵)تنوین ترنم :یعنی وہ تنوین جو آواز کی خوب صورتی کے لیے مصرعوں کے آخر میں لائی جاتی ہے ۔جیسے: ؎ 

اَقِلِّی اللَّوْمَ عَاذِلَ وَالْعِتَابَنْ      وَقُوْلِیْ اِنْ اَصَبْتُ لَقَدْ اَصَابَنْ

پہلے مصرعے میں اَلْعِتَابَنْ کے آخر میں اور دوسرے مصرعے میں اَصَابَنْ کے آخرمیں خوش آوازی کے لیے نون تنوین لایاگیاہے۔(ف)تنوین کی پہلی چار قسمیں صرف اسم پر داخل ہوتی ہیں اور تنوین ترنم فعل اور حرف پر بھی آسکتی ہے۔

1۔۔۔۔۔۔کسی بھی وقت کسی قسم کی خاموشی اختیار کر۔

2۔۔۔۔۔۔ ابھی خاموشی اختیار کر۔

3۔۔۔۔۔۔یہ اصل میں یَوْمَ اِذْ کَانَ کَذَا تھا جملہکَانَ کَذَاکو حذف کر کے اس کے عوض لفظ اِذْ پر تنوین لے آئے ۔
Flag Counter