ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1۔۔۔۔۔۔حروف غیر عاملہ کی آٹھویں قسم'' حرف ردع ''ہے۔ اور وہ ایک ہے:کَلَّا۔ ردع کا معنی ہے ''روکنا''۔ چونکہ اس حرف سے کلام کرنے والے کو اس کے کلام سے روکنا مقصود ہوتاہے اس لیے اسے ''حرف ردع ''کہتے ہیں ۔مثلاً کسی نے کہا :فُلَانٌ یَبْغُضُکَ (فلاں تجھ سے بغض رکھتا ہے) اسے کہا جائے گا:کَلَّا(ہر گز نہیں)یعنی ایسا نہ کہو۔ (ف)بعض اوقات کَلَّا جملہ کی تحقیق کے لیے حَقًّاکے معنی میں آتاہے۔ جیسے:(کَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ) (بے شک عنقریب جان لو گے) (نزع کے وقت اپنے حال بد کا نتیجہ)''البشیر شرح نحو میر''۔
2۔۔۔۔۔۔یعنی کسی حکم کو بتحقیق ثابت کرنے کے لیے آتاہے۔
3۔۔۔۔۔۔حروف غیر عاملہ کی نویں قسم''تنوین ''ہے ۔ کلام عرب میں لفظ ''تنوین ''کا استعمال نہیں ہوا علماء عربیت (صرف ونحو کے علماء)نے یہ لفظ استعمال کیا ہے ، نون سے تنوین بنایا جس کا مطلب ہوا ''نون کا داخل کرنا'' خواہ کیسا بھی نون ہو۔لیکن اس سے مراد وہ نون ساکن ہے جو کلمہ کے آخرمیں آئے اور تاکیدکے لیے نہ ہو۔ جیسے:زَیْدٌاس میں آخری حرف دال ہے جس پر ضمہ ہے اور ضمہ کے بعد جو نون ساکن پڑھاجاتاہے (زَیْدُنْ)یہی نون تنوین ہے۔
4۔۔۔۔۔۔تنوین کی مشہور قسمیں پانچ ہیں:(۱)تنوین تمکن:وہ تنوین جو اسم کے معرب ہونے پر دلالت کرے ۔جیسے :جَاءَ نِیْ زَیْدٌ میں۔ (۲)تنوین تنکیر:وہ تنوین جو اسم کے نکرہ ہونے پر دلالت کرے ۔ جیسے:صَہٍ یہ اسم فعل ہے اور مبنی ہے،اس پر آنے والی تنوین نکرہ ہونے کی علامت ہے۔لہٰذااس کا معنی ہے:اُسْکُتْ سُکُوْتاً مَّا فِیْ وَقْتٍ مَّا(کسی وقت تو چپ رہا کر)اگراس پر تنوین نہ ہوتو یہ اسم معرفہ ہوگالہٰذا''صَہْ''کا معنی ہوگا:اُسْکُتِ السُّکُوْتَ الْاٰنَ(تو اس وقت *