ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* امیر ابھی سوار ہو گیا) اگر مخاطب پہلے سے امیر کے سوار ہونے کامنتظر تھا تو اس میں قَدْ توقع وتحقیق وتقریب کے لیے ہے یعنی ایک بات کو ثابت کرنے کے لیے اور یہ بتانے کے لیے کہ مخاطب کو جس چیز کا انتظار تھا وہ واقع ہوگئی، نیزوہ ابھی ابھی واقع ہوئی ہے۔ (۲)برائے تحقیق وتقریب۔جیسے اگر مخاطب رکوب امیرکامنتظر نہیں تھا اور اسے کہا گیا قَدْ رَکِبَ الْاَمِیْرُ تو اس میں قَدْ تحقیق اور تقریب کے لیے ہے۔(۳)برائے تحقیق ۔جیسے کسی نے پوچھا :ھَلْ قَامَ زَیْدٌ (کیا زید کھڑا ہوا؟)اس کے جواب میں کہا گیا:قَدْ قَامَ زَیْدٌ(بے شک زید کھڑا ہوا)اس میں قَدْ صرف تحقیق کے لیے ہے۔ اورجب یہ فعل مضارع پر داخل ہوتو بھی اس کی تین صورتیں ہیں :(۱)برائے تحقیق۔ جیسے :(قَدْ یَعْلَمُ اللہُ الَّذِیْنَ یَتَسَلَّلُوْنَ مِنْکُمْ لِوَاذاً) (بے شک اللہ جانتا ہے ان لوگوں کو جو تم میں سے چپکے چپکے آڑے نکل جاتے ہیں۔)یہ آیت منافقین کے بارے میں ہے اس میں قَدْ صرف تحقیق کے لیے ہے ۔(۲)برائے تحقیق وتکثیر۔جیسے :(قَدْ نَرٰی تَقَلُّبَ وَجْھِکَ فِیْ السَّمَاءِ ) (بے شک ہم دیکھتے ہیں تمہارے چہرے کا آسمان کی طرف باربار اٹھنا ۔)اس میں قَدْ تحقیق کے ساتھ تکثیر (زیادتی)بیان کرنے کے لیے ہے ۔(۳)برائے تحقیق و تقلیل۔جیسے : اَلْکَذُوْبُ قَدْ یَصْدُقُ(بے شک بہت جھوٹا کبھی تحقیقاً سچ بول جاتاہے)اس میں قَدْ تحقیق کے علاوہ تقلیل (کمی بیان کرنے کے لیے)ہے ۔(ف)اس تفصیل سے واضح ہوا کہقَدْ بہرحال تحقیق کا معنی دیتاہے خواہ ماضی پر داخل ہو یا مضارع پر، فرق یہ ہے کہ ماضی پر تحقیق کے علاوہ کبھی توقع یا تقریب کے لیے آتاہے اور مضارع پر تحقیق کے علاوہ کبھی تکثیر یا تقلیل کے لیے آتاہے۔
1۔۔۔۔۔۔ فعل کے قلیل الوقوع ہونے پردلالت کرنے.
2۔۔۔۔۔۔حروف غیر عاملہ کی ساتویں قسم ''حروف استفہام ''ہے۔ یعنی وہ حروف جو طلب فہم کے لیے آتے ہیں۔یہ حروف ''نحو میر''میں تین ذکر کیے گئے ہیں:(۱)مَا۔ جیسے :مَا اسْمُکَ (تیرا نام کیا ہے ؟) (ف)خیال رہے کہ یہ مَا اسمیہ استفہامیہ ہے حرفیہ نہیں ۔ (۲)ہمزہ۔ جیسے:أَزَیْدٌ قَائِمٌ (کیا زید کھڑاہے؟) (۳)ھَلْ ۔جیسے:ھَلْ ذَھَبَ عَمْرٌو (کیا عمرو گیا ہے؟ )