ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* اَنَّ۔چونکہ یہ حروف ما بعد کے ساتھ مل کر مصدر کے معنی میں ہو جاتے ہیں اس لیے'' مصدریہ ''کہلاتے ہیں ۔مَا اوراَنْ فعل پر داخل ہوتے ہیں اور دونوں کا مجموعہ مصدر کے معنی میں ہو جاتا ہے ۔ جیسے: (ضَاقَتْ عَلَیْھِمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ)یہاں مَا اور فعل کا مجموعہ مصدر کے معنی میں ہے یعنی (زمین اپنی وسعت کے باوجود ان پر تنگ ہوگئی)اَعْجَبَنِیْ اَنْ ضَرَبْتَ(تیرے مارنے نے مجھے تعجب میں ڈالا)اَنّ جملہ اسمیہ پر داخل ہوتاہے اور دونوں کا مجموعہ مصدر کے معنی میں ہو جاتاہے۔ جیسے:بَلَغَنِیْ اَنَّکَ قَائِمٌ(تیرے کھڑے ہونے کی خبر مجھے پہنچی)آیت کریمہ میں بِمَا رَحُبَتْ بمعنی ''بِرُحْبِھَا ''ہے، دوسری مثال میں اَنْ ضَرَبْتَ بمعنی ضَرْبُک َہے اور تیسری مثال میں اَنَّکَ قَائِمٌ بمعنی قِیَامُکَ ہے۔
1۔۔۔۔۔۔ اور اَنَّ جملہ اسمیہ پر داخل ہوکر اسے مصدر کے معنی میں کردیتاہے ۔
2۔۔۔۔۔۔حروف عاملہ کی پانچویں قسم''حروف تحضیض''ہے۔ تحضیض کا معنی ہے''ابھارنا''، چونکہ اِن حروف سے مخاطب کو کسی کام پر ابھارنا مقصود ہوتاہے اس لیے ان کو حروف تحضیض کہا جاتاہے۔ جیسے:ألاَ تَحْفَظُ الدَّرْسَ(تو اپنا سبق زبانی یاد کیوں نہیں کرتا؟)اور جب یہ حروف فعل ماضی پر داخل ہوں تو تندیم (مخاطب کو شرمندہ کرنے)کے لیے آتے ہیں۔ جیسے :(لَوْلَا اِذْ سَمِعْتُمُوْہُ ظَنَّ الْمُوْمِنُوْنَ خَیْراً) (جب تم نے اس خبر کو سنا تو ایمان والوں نے اچھا گمان کیوں نہیں کیا ؟)یہ چار حروف ہیں:(۱) اَلَا(۲)ھَلاَّ(۳)لَوْلَا(۴)لَوْمَا ۔
3۔۔۔۔۔۔حروف غیر عاملہ کی چھٹی قسم ''حرف توقع ''ہے۔ اور وہ قَدْ ہے۔جب یہ ماضی پر داخل ہوتو اس کی تین صورتیں ہیں:(۱)برائے توقع وتحقیق وتقریب ۔جیسے:قَدْ رَکِبَ الْاَمِیْرُ(بے شک *