Brailvi Books

نحو مِير
119 - 202
اَجَلْ(۱)، جَیْرِ، اِنَّ، إِیْ(۲)۔
 (۳)۔۔۔۔۔۔حروف تفسیر(۳) : 

    یہ کل دو ہیں :
اَیْ، اَنْ۔
جیسے اللہ تعالی کا فرمان ہے:
 (وَ نَادَیۡنٰہُ اَنْ یّٰۤاِبْرٰہِیۡمُ )
 (۴)۔۔۔۔۔۔حروف مصدریہ(۴):
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* کہا :بَلٰی تو مطلب ہوگا:''کیوں نہیں'' یعنی رکھا تھا ۔کسی نے پوچھا :أمَا حَجَجْتَ(کیا تونے حج نہیں کیا؟)کہا :بَلٰی۔تومطلب ہوگا:''کیوں نہیں''یعنی حج کیا تھا۔

1۔۔۔۔۔۔ أَجَلْ، جَیْرِ اوراِنَّ اکثرخبرکی تصدیق کے لیے آتے ہیں ۔ کسی نے خبردی :قَدْ فَازَ اَخُوْکَ فِیْ الْاِمْتِحَانِ(بے شک تیرا بھائی امتحان میں پاس ہوگیا)اس کے جواب میں کہا:اَجَلْ یا جَیْرِیا اِنَّ اس کا معنی ہے :''ہاں !پاس ہوگیا ''۔

2۔۔۔۔۔۔ إِیْ۔استفہام کے بعد اس چیز کو ثابت کرنے کے لیے آتاہے جس کے بارے میں پوچھا گیا ہو۔ اس کا استعمال قَسم ہی کے ساتھ ہوتاہے۔ جیسے کسی نے پوچھا :ھَلْ قُضِیَتِ الصَّلَاۃُ (کیا نماز ہوگئی؟)جواب میں کہا گیا :اِیْ وَاللہِ یا اِیْ وَرَبِّ الْکَعْبَۃِ۔یعنی''ہاں!اللہ کی قسم نماز ہوگئی''۔ 

3۔۔۔۔۔۔حروف غیر عاملہ کی تیسری قسم''حروف تفسیر''ہے۔ اور وہ دو ہیں:(۱)اَیْ(۲)اَنْ۔ ان میں فرق یہ ہے کہ اَیْ مفرد اور جملہ دونوں کی تفسیر کے لیے آتاہے ۔جیسے:قُطِع رِزْقُہ، اَیْ مَاتَ (زید کا رزق ختم کردیا گیا یعنی وہ مر گیا)یہاں اَیْ نے جملہ سابقہ کی تفسیر مَاتَ سے کردی ۔ تفسیر مفرد کی مثال:جَاءَ نِیْ اَبُوْعَمْرٍواَیْ زَیْدٌ۔ (میرے پاس ابوعمرویعنی زید آیا)اس میں اَیْ نے اَبُوْعَمْرٍو مفردکی تفسیر زَیْدٌ سے کردی۔اور اَنْ صرف مفرد کی تفسیرکے لیے آتاہے لیکن اس کے لیے بھی شرط یہ ہے کہ وہ مفردایسے فعل کا مفعول بہ ہوجو ''قول''کا ہم معنی ہو۔ جیسے:(نَادَیْنٰہُ اَنْ یَّااِبْرَاھِیْمُ) اصل عبارت یوں ہوگی :نَادَیْنٰہُ بِلَفْظِ اَنْ یَّا اِبْرَاھِیْمُ۔ اس میں''لَفْظْ''مفعول بہ مقدر غیر صریحی ہے، ''اَنْ''نے ''یَا اِبْرَاھِیْمُ''کو اس کی تفسیر بنادیا، ''نَادَیْنٰہُ''قول کا ہم معنی فعل ہے۔ یعنی ''ہم نے اسے پکارا کہ اے ابراہیم''۔اور خود لفظ ''قول ''کے مفعول بہ کی تفسیر اس سے نہیں ہوسکتی لہٰذا اس طرح نہیں کہہ سکتے:قُلْتُ لَہُ أَنْ یَازَیْدُیعنی میں نے اس سے کہا کہ اے زید۔ 

4۔۔۔۔۔۔حروف عاملہ کی چوتھی قسم ''حروف مصدریہ ''ہے۔ اور وہ تین ہیں:(۱)مَا(۲)اَنْ (۳) *
Flag Counter