طَلْحَۃُ :اس میں تانیث اور علم ہیں۔
زَیْنَبُ :اس میں تانیث معنوی اورعلم ہیں۔
حُبْلٰی : اس میں ایک سبب تانیث بالف مقصورہ ہے(۱)۔
حَمْرَاءُ: اس میں ایک سبب تانیث بالف ممدودہ ہے،اور یہ دو اسباب کے قائم مقام ہے۔
اِبْرَاھِیْمُ: اس میں عجمہ اور علم ہیں۔
مَسَاجِدُاور مَصَابِیْحُ: ان میں ایک سبب جمع منتہی الجموع ہے ۔یہ بھی دوسببوں کے قائم مقام ہے۔
بَعْلَبَکُّ: اس میں ترکیب اور علم ہیں۔
أَحْمَدُ: اس میں وزن فعل اور علم ہیں۔
سَکْرَانُ : اس میں الف نون زائدتان اور وصف ہیں۔
عُثْمَانُ: اس میں الف نون زائدتان اور علم ہیں۔