Brailvi Books

نحو مِير
116 - 202
ترکیب(۱)، وزن فعل(۲)، الف نون زائدتان(۳)۔جیسے:

عُمَرُ:اس میں عدل اور علم ہیں۔
ثُلٰثُ ومَثْلَثُ:
ان میں صفت اور عدل ہیں۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ترکیب کہتے ہیں:دویادوسے زیادہ کلمات کاایک ہوجانا۔اس کے لیے شرط یہ ہے کہ کوئی جزء نہ خودحرف ہو اور نہ حر ف کو متضمّن ہو۔ جیسے :مَعْدِیْکَرِب۔ اس میں دو اسموں (مَعْدِیْ اورکَرِبَ)کو ملاکرایک اسم بنا دیا گیاہے۔(ف)یہ ایک جلیل القدر صحابی رضی اللہ تعالی عنہ کا نام ہے جو ہمدانی ہیں ۔اسی طرح بَعْلَبَکُّ میں بھی ترکیب ہے؛ بَعْلٌ بت کا نام اور بَکُّ بادشاہ کا نام، دونوں کو ملا کر شہر کا نام رکھ دیا گیا۔

2۔۔۔۔۔۔وزن فعل:یعنی اسم کافعل کے وزن پرہونا۔(ف)خیال رہے کہ وزن کی دو قسمیں ہیں:(۱)وزنِ مختص بالفعل۔ یعنی وہ وزن جوصرف فعل کے ساتھ خاص ہے۔جیسے:فُعِلَ، فَعَّلَ، فُعِّلَ، فُعْلِلَ، تَفَعْلَلَ، تُفُعْلِلَ۔ (۲)وزن مشترک ۔یعنی وہ وزن جو اسم اور فعل دونوں میں مشترک ہو۔ جیسے:فَعَلَ، فَعْلَل َوغیرہ کہ ان اوزان پر اسم اور فعل دونوں آتے ہیں جیسے فَرَسٌ،ضَرَبَ،جَعْفَرٌ، دَحْرَجَ وغیرہا۔(ف)اگر کوئی اسم ایسے وزن پر ہوجو فعل کے ساتھ خاص ہے تواس کے منع صرف کا سبب بننے کے لیے کوئی شرط نہیں۔جیسے :شَمَّرُ(ایک گھوڑے کا نام)اور اگرکوئی اسم ایسے وزن پرہوجواسم اور فعل دونوں میں مشترک ہوتواس کے منع صرف کا سبب بننے کے لیے دوشرطیں ہیں:(۱)اس کے شروع میں حروف اتین(ا، ت، ی، ن)میں سے کوئی حرف ہو۔اور(۲)اس کی مؤنث میں ۃ نہ آتی ہو۔جیسے:اَحْمَدُ میں وزن فعل ایک سبب بنے گا؛ کیونکہ یہ اَفْعَل ُکے وزن پر ہے ، اس کے شروع میں حروفِ اتین میں سے ہمزہ بھی ہے اوراس کے آخر میں تاء بھی نہیں آتی۔اوریَعْمَلٌ (قوی اونٹ)میں وزن فعل سبب نہیں بنے گا؛ کیونکہ اگرچہ یہیَفْعَلُ کے وزن پرہے اور اس کے شروع میں حروف اتین میں سے (ی)بھی ہے مگر اس کی مؤنث میں تاء آتی ہے۔جیسے:یَعْمَلَۃٌ(قوی اونٹنی)۔

3۔۔۔۔۔۔الف نون زائدتان ۔یعنی وہ الف اور نون جو کسی اسم کے آخر میں زائد ہوں۔جیسے: سَکْرَانُ عُثْمَانُ وغیرہ۔
Flag Counter