Brailvi Books

نحو مِير
115 - 202
تانیث(۱)، معرفہ، عجمہ(۲)، جمع (۳) ، ...............................
* ہے کہ اس میں وصفیت اصلیہ ہویعنی وہ وضع ہی وصفیت کے لیے کیاگیا ہولہٰذااگرکوئی اسم وصفیت کے لیے وضع تو نہ کیاگیاہو لیکن استعمال میں وصف بن جائے تو وہ منع صرف کا سبب شمار نہیں کیاجائے گا۔جیسے:مَرَرْتُ بِنِسْوَۃٍ أَرْبَعٍ(میں چار عورتوں کے پاس سے گزرا)اس مثال میں اَرْبَعٍ اگرچہ صفت بن رہاہے مگر چونکہ ا صل میں ایک عدد کے لیے وضع کیا گیاہے اس لیے منع صرف کا سبب نہیں ہوگا۔(ف)ثَلَاثَۃٌ ثَلَاثَۃٌ میں بھی وصف اصلی (وضعی)نہیں ہے لیکن ثُلاَثُ اورمَثْلَثُ کی وضع میں معتبر ہے اس لیے منع صرف کا سبب بنے گا ،دوسرا سبب عدل ہے۔ (ف)أحْمَرُکسی شخص کا نام رکھ دیا جائے پھر اسے نکرہ کردیا جائے تو یہ اگرچہ وصف نہیں رہے گا لیکن وضع کے لحاظ سے تو وصف ہے اس لیے منع صرف کا سبب بنے گا۔

1۔۔۔۔۔۔تانیث:اسم کامؤنث ہونا ۔کسی اسم کے مؤنث ہونے کی دو علامتیں ہیں: (۱) تاء (۲)الف۔ پھرتاء کی دوقسمیں ہیں:(۱)تاء ملفوظہ۔ یعنی وہ تاء جو لفظوں میں ہواور پڑھنے میں آتی ہو۔جیسے:طَلْحَۃُ۔یہ تاء وقف کی حالت میں (ہ)پڑھی جاتی ہے۔ (۲)تاء مقدرہ۔ یعنی وہ تاء جو لفظوں میں نہ ہواور پڑھنے میں نہ آتی ہو۔جیسے:اَرْضٌ۔ یہ اصل میں أَرْضَۃٌہے۔ نیز الف کی بھی دو قسمیں ہیں:(۱)الف مقصورہ۔ یعنی وہ الف جس کے بعد ہمزہ نہ ہو ۔جیسے:حُبْلٰی(حاملہ عورت) (۲)الف ممدودہ۔ یعنی وہ الف جس کے بعد ہمزہ ہو ۔جیسے:حَمْرَاءُ(سرخ عورت)اس سے معلوم ہوا کہ کل علاماتِ تانیث چار ہیں :تاء ملفوظہ، تاء مقدرہ، الف مقصورہ، الف ممدودہ۔اگرپہلی دوعلامتوں میں سے کوئی علامت پائی جائے تو اسے ''تانیث بالتاء'' اوراخیر کی دو علامتوں میں سے کوئی علامت پائی جائے تو اسے''تانیث بالالف''کہتے ہیں ۔(ف)تانیث بالالف دوسببوں کے قائم مقام ہے ۔ 

2۔۔۔۔۔۔عجمہ کا مطلب ہے:اسم کا غیرعربی ہونا ۔اس کے منع صرف کا سبب بننے کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ عربی میں علم کے طورپراستعمال ہو خواہ پہلے علم ہو یا نہ ہو۔ جیسے: اِبْرَاھِیْمُ۔

3۔۔۔۔۔۔جمع :اسم کا دو سے زائدپر دال ہونا۔ اس کے منع صرف کا سبب بننے کے لیے شرط یہ ہے کہ منتہی الجموع کے صیغہ پر ہو۔(ف)منتہی الجموع کا صیغہ وہ ہے جس میں پہلے دو حروف مفتوح، تیسری جگہ الف اور اس کے بعدیاتوایک حرف مشددہو۔جیسے:دَوَابُّ۔یادو حروف ہوں جن میں پہلا مکسور ہو۔جیسے:مَسَاجِدُ۔ یا تین حرف ہوں جن میں پہلا مکسور اور دوسرا حرف یاء ساکن ہو۔ جیسے:مَصَابِیْحُ۔ (ف)یہ جمع بھی دوسببوں کے قائم مقام ہوتی ہے۔
Flag Counter