Brailvi Books

نحو مِير
114 - 202
سبق نمبر: 24

(۔۔۔۔۔۔منصرف اور غیر منصرف کابیان ۔۔۔۔۔۔)
منصرف کی تعریف:

    وہ اسم متمکن جس میں منعِ صرف کا کوئی سبب نہ ہو (۱) ۔

غیر منصرف کی تعریف(۲) :

    وہ اسم متمکن جس میں منع ِصرف کے نواسباب میں سے کوئی دواسباب پائے جائیں (۳) ۔

اسبابِ منعِ صرف:

     اسباب منع صرف نو ہیں :عدل(۴)، وصف(۵)، ....................
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔جیسے :رَجُلٌ وغیرہ۔

2۔۔۔۔۔۔ غیر منصرف وہ اسم ہے جس میں منع صرف کے دو سبب یا دو کے قائم مقام ایک سبب پایا جائے ۔(حکم)غیر منصرف پر کسرہ اور تنوین نہیں آئے گی۔ ہاں اگر غیر منصرف مضاف یا معرف باللام ہواور اس سے پہلے جردینے والاکوئی عامل ہوتو اس پر کسرہ آجائے گا۔ جیسے:مَرَرْتُ بِالْأَحْمَدِ وَأَحْمَدِکُمْ۔ (ف)نو چیزوں کو ''اسبابِ منعِ صرف''کہاجاتاہے۔وہ نوچیزیں یہ ہیں:عدل، وصف، تانیث، معرفہ، عجمہ،جمع، ترکیب، وزنِ فعل، اور الف نون زائدتان۔(ف)تانیث بالالف ایک سبب دو کے قائم مقام ہے، اسی طرح جمع منتہی الجموع بھی دو کے قائم مقام ہے۔

3۔۔۔۔۔۔یا ایک ایسا سبب پایا جائے جو دو اسباب کے قائم مقام ہو ۔

4۔۔۔۔۔۔عدل کا معنی ہے اسم کے مادہ کا صرفی قاعدہ کے بغیر اصلی صورت سے نکالا جانا۔ جیسے:عَامِرٌ سے عُمَرُ بنا۔ اس میں عدل اور علم ہے۔ثَلَاثَۃٌ ثَلَاثَۃٌسے ثُلٰثُ اورمَثْلَثُبنا۔ اس میں عدل اور وصف پایا گیا ہے۔

5۔۔۔۔۔۔وصف کا معنی ہے اسم کا ایسی ذات پر دلالت کرنا جو کسی صفت سے متصف ہو۔ جیسے:أَحْمَرُ(سرخ)اس میں وصف اور وزنِ فعل ہے ۔(ف)وصف کے منع صرف کا سبب بننے کے لیے شرط یہ  *
Flag Counter