اِنْ شَاءَ اللہُ عَزَّوَجَلَّ۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1۔۔۔۔۔۔چوتھا تابع عطف بحرف ہے۔''عطف''مصدر ہے جس کا معنی ہے''مائل کرنا''لیکن یہاں اسم مفعول یعنی''معطوف''کے معنی میں ہے ۔اس کا دوسرانام ''عطف نسق''بھی ہے۔ اس میں بھی ''عطف''بمعنی ''معطوف ''اور''نسق''بمعنی ''منسوق''یعنی ''مرتب''ہے۔ چونکہ بعض اوقات حرف عطف سے ترتیب بھی معلوم ہوتی ہے(جیساکہ فاء، ثمّ اورحتّی سے عطف کرنے کی صورت میں)اس لیے اسے'' عطف نسق''کہتے ہیں ۔
2۔۔۔۔۔۔عطف بحرف :وہ تابع ہے جو حرف عطف کے بعد واقع ہو اور جس چیز کی نسبت اس کے متبوع کی طرف کی گئی ہے اس سے تابع اور متبوع دونوں مقصود ہوں۔جیسے:جَاءَ نِیْ زَیْدٌ وَعَمْرٌو۔ اس میں جَاءَ کی نسبت زَیْدٌ کی طرف کی گئی ہے اورحرف عطف واوکے واسطے سے عمرو کی طرف بھی اس کی نسبت مقصود ہے۔یعنی میرے پاس زیداور عمرودونوں آئے۔(ف)معطوف کے متبوع کو ''معطوف علیہ ''کہتے ہیں۔(ف)عطف بحرف میں اگرچہ معطوف اور معطوف علیہ دونوں کی طرف حکم کی نسبت ہوتی ہے مگر یہ ضروری نہیں کہ دونوں کی طرف نسبت ایک جیسی ہوبلکہ ان میں فرق ہوسکتاہے ۔جیسے:جَاءَ نِیْ زَیْدٌ لاَعَمْرٌو(میرے پاس زید آیا عمرونہیں)اس میں نسبت اگرچہ دونوں کی طرف ہے مگر زید کی طرف آنے کی نسبت ہے اور عمر و کی طرف نہ آنے کی ۔تَأَمَّلْ۔
3۔۔۔۔۔۔حروف عطف دس ہیں :واو، فاء، ثمّ، حتّی، أو، إِمّا، أم، بل، لکنْ، لا۔