جبکہ متبوع علم سے زیادہ کنیت کے ساتھ مشہور ہو۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1۔۔۔۔۔۔پانچواں تابع عطف بیان ہے ۔یہ وہ تابع ہے جوصفت نہ ہواور متبوع کوواضح کردے۔ جیسے:اَقْسَمَ بِاللہِ اَبُوْحَفْصٍ عُمَرُ۔ اس میں عُمَرُ عطف بیان ہے اس کی دلالت ابو حفص کی ذات پر ہے ؛کیونکہ ابو حفص حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کی کنیت ہے ،لیکن اتنی زیادہ مشہور نہیں جتنا نام مشہور ہے اس لیے عمر نے اپنے متبوع کو واضح کردیا۔(ف)عطف بیان اور صفت میں فرق یہ ہے کہ صفت اپنے متبوع میں پائے جانے والے معنی (وصف)پر دلالت کرتی ہے اور عطف بیان ذاتِ متبوع پر دلالت کرتاہے ۔(ف)بدل اور عطف بیان میں یہ فرق ہے کہ بدل اصل مقصود ہوتاہے اور اس کے متبوع کا ذکر محض تمہید کے طور پرہوتاہے۔ اور عطف بیان محض وضاحت کے لیے لایاجاتاہے اور اصل مقصود اس کا متبوع ہوتاہے۔
2۔۔۔۔۔۔علَم:وہ اسم ہے جو معین شئکے لیے وضع کیا گیا ہو۔ اس کی تین قسمیں ہیں: (۱)کنیت یعنی وہ نام جس کے شروع میں اب، ابن، امیا بنت ہو ۔جیسے:اَبُوْ بَکْرٍ، اَبُوْ حَفْصٍ، اِبْنُ عَبَّاسٍ، اُمُّ سَلَمَۃَ، بِنْتُ صِدِّیْقٍ رضی اللہ تعالی عنہم۔ (۲)لقب یعنی وہ نام جس سے مقصودمدح یا ذم ہو۔ جیسے:شیخ الاسلام(خواجہ قمر الدین سیالوی رحمہ اللہ کا لقب)محدث اعظم پاکستان(مولاناابو الفضل محمد سرداراحمدرحمہ اللہ کا لقب)مفتی اعظم پاکستان(ابوالبرکات سید احمدرحمہ اللہ کا لقب۔)ان ناموں سے مقصود مدح ہے۔ذم کی مثالیں یہ ہیں:اَبُوْلَھَبٍ،اَبُوْ جَھْلٍ وغیرہ۔(۳)علم محض۔یعنی وہ نام جس میں مذکورہ دونوں باتیں نہ ہوں۔جیسے:احمد رضا خان ، محمد نعیم الدین مراد آبادی، امجد علی اعظمی (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ)(ف)عطف بیان کے لیے یہ ضروری نہیں کہ وہ مبین (یعنی اپنے متبوع)سے زیادہ واضح ہو بلکہ اتنا کافی ہے کہ دونوں کے اجتماع سے وہ وضاحت حاصل ہوجائے جو ان میں سے کسی ایک سے حاصل نہیں ہوسکتی ۔تَأَمَّلْ۔