Brailvi Books

نحو مِير
109 - 202
سبق نمبر: 22

(۔۔۔۔۔۔بدل کا بیان(۱) ۔۔۔۔۔۔)
بدل کی تعریف:

    وہ تابع جومقصودبالنسبۃ ہوتاہے(۲) ۔

بدل کی اقسام

    بدل کی چار اقسام ہیں(۳):
بدل الکل، بدل البعض، بدل الاشتمال، بدل الغلط.
 (۱)۔۔۔۔۔۔بدل الکل کی تعریف:

     وہ بدل جس کامدلول بعینہ مبدل منہ کا مدلول ہو۔ مثلا ً :
جَاءَ نِیْ زَیْدٌ أَخُوْکَ۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔تابع کی تیسری قسم بدل ہے۔یہ وہ تابع ہے جو مقصود بالنسبۃ ہوتاہے یعنی متبوع کی طرف جس حکم کی نسبت کی گئی ہوتی ہے دراصل اُس کی نسبت اِسی بدل کی طرف کر نا مقصود ہوتاہے اور متبوع کا ذکر محض تمہید کے طور پر ہوتا ہے ۔ جیسے:جَاءَ نِیْ زَیْدٌ أَخُوْکَ (میرے پاس زید تیرا بھائی آیا)اس میں جَاءَ کی نسبت دراصل اَخُوْک َکی طرف کرنا مقصود ہے ،زَیْدٌ متبوع کو بطور تمہید ذکر کیا گیا ہے۔ 

2۔۔۔۔۔۔یعنی فعل یاشبہ فعل کی نسبت اسی کی طرف کرنا مقصود ہو تاہے اور مبدل منہ کاذکرمحض تمہیداًہوتاہے۔

3۔۔۔۔۔۔بدل کی چار قسمیں ہیں :(۱)بدل کل۔یعنی وہ بدل جس کا مدلول وہی ہو جو متبوع کامدلول ہے۔ جیسے:جَاءَ نِیْ زَیْدٌ أَخُوْکَ۔ اس میں أَخُوْکَ اورزَیْدٌ کا مدلول ایک ہی ہے یعنی ذات زید۔ (۲)بدل بعض۔یعنی وہ بدل جس کا مدلول متبوع کے مدلول کا جزء ہو۔جیسے:ضُرِبَ زَیْدٌ رَأْسُہ،(زید کے سر کو مارا گیا)اس میں رَأْسٌ کا مدلول (سر) زید کا جز ء ہے۔(۳)بدل اشتمال۔ یعنی وہ بدل جس کا متبوع کے ساتھ ایک خاص تعلق ہو۔(تنبیہ)کبھی یہ بدل اپنے متبوع پر مشتمل
Flag Counter