Brailvi Books

نحو مِير
108 - 202
أَکْتَعُ، أَبْتَعُ، أَبْصَعُ(۱)۔
جیسے:
جَاءَ نِیْ زَیْدٌ نَفْسُہ،، جَاءِ نِیْ الزَیْدَانِ أَنْفُسُھُمَا، جَاءَ نِیْ الزَیْدُوْنَ أَنْفُسُھُمْ۔
لفظ
عَیْنٌ
کوبھی لفظ
نَفْسٌ
پر قیاس کرلیجئے۔
جَاءَ نِیْ الزَیْدَانِ کِلَاھُمَا وَالْھِنْدَانِ کِلْتَاھُمَا، جَاءَ نِیْ الْقَوْمُ کُلُّھُمْ أَجْمَعُوْنَ وَأَکْتَعُوْنَ وَأَبْتَعُوْنَ وَأَبْصَعُوْنَ۔
    خیال رہے کہ (۲)
أَکْتَعُ أَبْتَعُ أَبْصَعُ
تینوں
أَجْمَعُ
کے تابع ہیں لہٰذایہ تینوں نہ
أَجْمَعُ
کے بغیر آسکتے ہیں اور نہ اس پر مقدم ہوسکتے ہیں۔
 	            سوالات

سوال۱: تاکید اور اس کی اقسام کی تعریفات بمع امثلہ واضح کریں۔

سوال۲: تاکید لفظی کے لئے کون کون سے الفاظ مستعمل ہیں؟
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

سجدہ کیا)جَاءَ تِ الْھِنْدَاتُ کُلُّھُنَّ جُمَعُ۔أَجْمَعُ بعض اوقات لفظ کُلٌّ کے بغیر بھی استعمال ہوتاہے :جَاءَ الْجَیْشُ أَجْمَعُ (تمام لشکر آگیا ۔) (ف)کُلٌّ اوراَجْمَعُ سے ایسی چیز کی تاکید کی جائے گی جس کے اجزاحسی طور پر جدا ہو سکیں یا حکمی طور پرلہٰذا یہ تو کہہ سکتے ہیں :جَاءَ الْقَوْمُ کُلُّھُمْ؛ کیونکہ قوم کے اجزا(افراد)حسی طور پر جداجداہوتے ہیں ۔اِشْتَرَیْتُ الْعَبْدَکُلَّہ،۔ کیونکہ غلام کے اجزا اگرچہ حسی طور پر جدا نہیں ہوتے مگر حکمی طور پر جداہوتے ہیں؛ کیونکہ غلام آدھابھی خریداجاتاہے اور پورابھی۔ مگر یہ نہیں کہہ سکتے:جَاءَ زَیْدٌکُلُّہ، ؛کیونکہ یہ نہیں ہو سکتا کہ زید کا ایک حصہ آئے اور دوسرا نہ آئے ۔

1۔۔۔۔۔۔اَکْتَعُ، اَبْتَعُ اوراَبْصَعُ،یہ تینوں اَجْمَعُ کے تابع ہیں یعنی نہ تو اس کے بغیر استعمال ہوتے ہیں اور نہ اس سے پہلے۔

(۲)کِلَا اور کِلتَامثنی کے ساتھ خاص ہیں۔
Flag Counter