Brailvi Books

نحو مِير
107 - 202
ہے۔وہ آٹھ الفاظ یہ ہیں:
نَفْسٌ، عَیْنٌ(۱)، کِلَا وکِلْتَا(۲)، کُلٌّ(۳)، أَجْمَعُ(۴)، .............................................................
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ہوتی ہے ۔جیسے آخری دونوں مثالوں میں۔وہ مخصوص الفاظ کل آٹھ ہیں :نفسٌ، عَیْنٌ، کِلَا و کِلْتَا، کُلٌّ، اَجْمَعُ، اَکْتَعُ، اَبْتَعُ، اَبْصَعُ۔ ان میں لفظ کی تکرار نہیں ہے معنی کی تکرار ہے اس لیے اسے ''تاکید معنوی''کہتے ہیں۔ مذکورہ آٹھ الفاظ کی تفصیل عنقریب آتی ہے۔ان شاء اللہ عزوجل۔ 

1۔۔۔۔۔۔نَفْسٌ اورعَیْنٌ دونوں واحد تثنیہ اور جمع کی تاکید کے لیے آتے ہیں ۔

(تنبیہ) جب ان کو تاکید کے لیے استعمال کیاجائے گا تو ان کے ساتھ ایک ضمیر کا ہوناضروری ہے جو وحدت، تثنیہ وجمع اور تذکیروتانیث میں مؤکد کے مطابق ہو۔نیزجب ان سے تثنیہ وجمع کی تاکید کی جائے گی تو صیغہ بھی جمع لایاجائے گا۔ جیسے:جَاءَ نِیْ زَیْدٌ نَفْسُہ،۔ (میرے پاس زید خود آیا)جَاءَ تْنِیْ ھِنْدٌ نَفْسُہَا۔ اسی طرح :جَاءَ نِیْ الزَّیْدَانِ اَنْفُسُھُمَا(میرے پاس دو زید خود آئے)جَاءَ تْنِیْ الْھِنْدَانِ اَنْفُسُھُمَا (میرے پاس دو ہندہ خود آئیں)اور ایسے ہی:جَاءَ نِیْ الزَّیْدُوْنَ اَنْفُسُھُمْ اور جَاءَ تْنِیْ الْھِنْدَاتُ اَنْفُسُھُنَّ۔ اسی طرح عَیْنٌ کا لفظ بھی استعمال کیا جائے گا:جَاءَ نِیْ زَیْدٌ عَیْنُہ،، وَالزَّیْدَانِ اَعْیُنُھُمَا، وَالزَّیْدُوْنَ اَعْیُنُھُمْ، وَجَاءَ تْنِیْ ھِنْدٌ عَیْنُھَا، وَالْھِنْدَانِ اَعْیُنُھُمَا، وَالْھِنْدَاتِ اَعْیُنُھُنَّ۔

2۔۔۔۔۔۔کِلَا صرف تثنیہ مذکر اورکِلْتَا صرف تثنیہ مؤنث کی تاکید کے لیے آتاہے۔ان کے بعد بھی ضمیر کا ہونا ضروری ہے جو مؤ کدکے مطابق ہو۔ جیسے :جَاءَ نِیْ الزَّیْدَانِ کِلَاھُمَا(میرے پاس دونوں زید آئے)جَاءَ تْنِیْ الْھِنْدَانِ کِلْتَاھُمَا (میرے پاس دونوں ہندہ آئیں۔)

3۔۔۔۔۔۔لفظ کُلٌّ واحد اور جمع کی تاکید کے لیے آتاہے تثنیہ کے لیے نہیں آتا ۔اس کے بعد بھی مؤکد کے مطابق ضمیر کا ہونا ضروری ہے۔ جیسے:(عَلَّمَ آدَمَ الْاَسْمَاءَ کُلَّھَا)آدم علیہ السلام کو تمام اسماء سکھائے، اَسْمَاءَ اگرچہ جمع ہے لیکن بتاویل جماعت واحد مؤنث کی ضمیر اس کی طرف لوٹائی گئی ہے۔(سَجَدَ الْمَلَائِکَۃُ کُلُّھُمْ)(سب فرشتوں نے سجد ہ کیا )قَرَأْتُ الْکِتَابَ کُلَّہ، (میں نے پوری کتاب پڑھی )اِشْتَرَیْتُ الدَّارَ کُلَّھَا(میں نے پوراگھر خریدلیا۔)

4۔۔۔۔۔۔اَجْمَعُ۔ یہ واحد اور جمع (مذکرومؤنث)کی تاکید کے لیے آتاہے ۔واحد مذکر کے لیے یہی صیغہ استعمال ہوتاہے ۔اورواحد مؤنث کے لیےجَمْعَاءُ  آتاہے۔اور جمع مذکر کے لیے اَجْمَعُوْنَ اور جمع مؤنث کے لیے جُمَعُ استعمال ہوتاہے۔ عموما ًاس کا استعمال لفظکُلٌّ کے بعد ہوتاہے۔ جیسے:جَاءَ الرَّکَبُ کُلُّہ، اَجْمَعُ(سواروں کا پورا قافلہ ، سارے کا سارا آگیا)جَاءَ تِ الْقَبِیْلَۃُ کُلُّھَا جَمْعَاءُ۔(فَسَجَدَ الْمَلَا ئِکَۃُ کُلُّھُمْ اَجْمَعُوْنَ)(تمام سب کے سب فرشتوں نے *
Flag Counter