ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1۔۔۔۔۔۔تابع کی دوسری قسم تاکید ہے۔یہ وہ تابع ہے جو متبوع کے حال کو نسبت یا شمول میں پختہ کرتاہے یعنی اس بات پر دلالت کرتاہے کہ حکم مسند الیہ یا مسند ہی کے لیے ہے،یااس بات پر دلالت کرتاہے کہ حکم تمام اجزا یا تمام افراد کوعام ہے۔ تاکہ سننے والے کو شک نہ رہے ۔جیسے:زیدٌ زیدٌ قائمٌ (زید ہی کھڑا ہے)اس میں پہلا زید مسند الیہ ہے اور دوسرا زید اس کی تاکید ہے جو اس بات کو پختہ کررہاہے کہ قیام کی نسبت اسی کی طرف ہے۔ اسی طرح :زیدٌ قَائِمٌ قَائِمٌ۔ (زید کھڑاہی ہے)اس میں پہلاقَائِمٌ مسند ہے اور دوسرا قَائِمٌ اس کی تاکید ہے جو اس بات کو پختہ کررہاہے کہ زید کی طرف قیام ہی کی نسبت ہے۔ فرمان باری تعالی ہے:(فَسَجَدَ الْمَلَا ئِکَۃُ کُلُّھُمْ)اس آیت کریمہ میں الْمَلَائِکَۃُ مسند الیہ ہے اور کُلُّھُمْ اس کی تاکید ہے جو اس بات پر دلالت کررہاہے کہ سجود کی نسبت ملائکہ کے تمام افراد کو شامل ہے ایسا نہیں ہے کہ بعض افراد ملائکہ نے سجدہ کیااور بعض نے نہیں کیا بلکہ سب نے کیا ۔اور جس نے نہیں کیا وہ فرشتہ ہی نہیں تھا۔اسی طرح یہ مثال ہے:اِشتَرَیْتُ العَبْدَکُلَّہ، (میں نے پورا غلام خریدا)اس میں کُلَّہ، تاکید ہے جو اس بات کو پختہ کررہاہے کہ خریدے جانے کی نسبت غلام کے جمیع اجزا ء کی طرف ہے۔ یہاں تاکید شمول اجزاپر دلالت کررہی ہے۔پھر تاکید کی دو قسمیں ہیں:(۱) لفظی (۲) معنوی ۔ پہلی قسم میں ایک لفظ کومکرّر(دوبارہ)ذکر کیا جاتاہے ۔جیسے پہلی دونوں مثالوں میں۔یہ تاکیدچونکہ لفظ کی تکرار سے حاصل ہوتی ہے اس لیے اسے ''تاکیدلفظی''کہتے ہیں۔اور دوسری قسم مخصوص الفاظ سے حاصل