Brailvi Books

نحو مِير
104 - 202
عَالِمُوْنَ، واِمْرَأَۃٌ عَالِمَۃٌ، واِمْرَأَتَانِ عَالِمَتَانِ، ونِسْوَۃٌ عَالِمَاتٌ۔
    اوردوسری قسم(۱)پانچ چیزوں میں متبوع کے مطابق ہوتی ہے:(۱)تعریف (۲)تنکیر (۳) رفع (۴)نصب (۵)جر۔ مثلاً:
جَاءَ نِیْ رَجُلٌ عَالِمٌ أَبُوْہ،۔
فائدہ:

    خیال رہے کہ نکرہ کی صفت جملہ خبریہ آ سکتی ہے(۲)۔ جیسے:
جَاءَ نِیْ رَجُلٌ أَبُوْہ، عَالِمٌ۔
اس وقت جملہ میں ایسی ضمیر کا ہونا ضروری ہے جو نکرہ (موصوف) کی طرف لوٹے(۳)۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* تثنیہ وجمع میں سے ایک اور رفع ،نصب وجر میں سے ایک میں موافقت ہوگی۔ عِنْدِیْ رَجُلٌ عَالِمٌ۔ میں موصوف اورصفت نکرہ ، مذکر ، واحد اور مرفوع ہیں۔ وَعَلٰی ھٰذَا الْقِیَاسُ۔

1۔۔۔۔۔۔یعنی صفت بحال متعلقہ پانچ چیزوں میں موصوف کے مطابق ہوگی :تعریف وتنکیر اور رفع، نصب اورجر۔(ف)ان پانچ چیزوں میں سے بیک وقت دو چیزوں میں موافقت ہوگی:تعریف وتنکیر میں سے ایک اور رفع ،نصب اور جر میں سے ایک رَجُلٌ عَالِمٌ اَبُوْہ، میں موصوف اور صفت دونوں نکرہ اور مرفوع ہیں ۔ 

2۔۔۔۔۔۔جس طرح مفرد صفت واقع ہوتاہے اسی طرح بعض اوقات جملہ بھی صفت بن جاتاہے؛ کیونکہ وہ متبوع میں پائے جانے والے معنی پر دلالت کرتاہے۔ جیسے:جَاءَ نِیْ رَجُلٌ اَبُوْہ، عَالِمٌ (میرے پاس عالم باپ والا مرد آیا)اس کے لیے چند شرطیں ہیں:(۱)موصوف نکرہ ہو؛ کیونکہ جملہ نکرہ کے حکم میں ہوتاہے۔(۲)جملہ خبریہ ہو، انشائیہ نہ ہو۔(۳)جملہ میں ایک ضمیر ہو جو موصوف کی طرف راجع ہو۔

3۔۔۔۔۔۔جیساکہ مثال مذکور میں اَبُوْہ، کی ضمیر مجرور متصل رَجُلٌ نکرہ موصوف کی طرف راجع ہے ۔
Flag Counter