صفت کی پہلی قسم (۲)دس چیزوں میں اپنے متبوع کے مطابق ہوتی ہے: (۱)تعریف(۲)تنکیر(۳)تذکیر(۴)تانیث(۵)اِفراد(۶)تثنیہ(۷)جمع(۸)رفع (۹)نصب(۱۰)جر۔ جیسے :
عِنْدِیْ رَجُلٌ عَالِمٌ، ورَجُلَانِ عَالِمَانِ، ورِجَالٌ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* رَجُلٌ عَالِمٌ؛ کہ اس میں عَالِمٌ تابع ہے اور یہ وہی معنی بیان کررہاہے جو اس کے متبوع رَجُلٌ میں پایاجارہاہے۔ اور دوسری قسم کو''صفت بحال متعلقہ''کہتے ہیں۔ جیسے:رَجُلٌ حَسَنٌ غُلَامُہ، ؛کہ اس میں حَسَنٌ اس معنی کو بیان کررہاہے جو اس کے متبوع رَجُلٌ کے متعلق غُلَام ٌمیں پایاجارہاہے۔
(ف)موصوف اگر نکرہ ہوگا تو صفت تخصیص کا فائدہ دے گی۔جیسے:رَجُلٌ عَالِمٌ۔ رَجُلٌ مرد کو کہتے ہیں خواہ عالم ہو یا جاہل ''عَالِمٌ''نے جاہل کو خارج کردیا اور رَجُلٌ کے عموم اور اشتراک کو کم کردیا۔ اور اگر موصوف معرفہ ہو تو صفت توضیح کا فائدہ دیتی ہے ۔جیسے:زَیْدُنِ الْعَالِمُ۔ اس میں زَیْدٌ اگرچہ ایک معین شخص کا نام ہے لیکن اشتراک لفظی کی وجہ سے اس میں ابہام ہے کہ اس نام کے متعدد افراد ہیں تو یہاں کونسا زید مرادہے ، صفت نے آکر وضاحت کردی کہ عالم زید مراد ہے۔
1۔۔۔۔۔۔حَسَنٌ غُلَامُہ، یا حَسَنٌ اَبُوْہ،۔ یہ دو مثالیں ہیں پہلی مثال میں حَسَنٌ کا فاعل اسم مفرد منصرف صحیح ہے اور اس کا اعراب بالحرکۃ ہے، دوسری مثال میں فاعل اسمائے ستہ مکبرہ میں سے ہے اور اس کا اعراب بالحرف ہے۔
فائدہ:اس طرح صفت کی دو قسمیں بن جاتی ہیں:(۱)وہ صفت جو اپنے متبوع میں پائے جانے والے معنی کو بیان کرتی ہے ۔(۲)وہ صفت جو اپنے متبوع کے متعلق میں پائے جانے والے معنی پر دلالت کرتی ہے ۔
2۔۔۔۔۔۔صفت کی پہلی قسم یعنی صفت بحالہ دس چیزوں میں موصوف کے مطابق ہوگی:تعریف وتنکیر، تذکیر وتانیث،وحدت،تثنیہ وجمع،اور رفع، نصب اور جر۔یعنی موصوف اگرمعرفہ ہوتوصفت بھی معرفہ، موصوف نکرہ ہو توصفت بھی نکرہ ہوگی۔وَعَلٰی ھٰذَا الْقِیَاسُ۔ (ف)ان دس چیزوں میں سے بیک وقت چار چیزوں میں موافقت ہوگی:تعریف وتنکیر میں سے ایک، تذکیر وتانیث میں سے ایک، افراد *