| نحو مِير |
تابع کی تعریف:
تابع ہروہ دوسرا لفظ جو اعراب میں ایک ہی جہت سے پہلے لفظ کے مطابق ہوتا ہے۔ پہلے لفظ کو'' متبوع''کہتے ہیں۔
تابع کا حکم:
تابع کا حکم یہ ہے کہ وہ اعراب میں ہمیشہ اپنے متبوع کے مطابق ہوتاہے۔
تابع کی اقسام
تابع کی پانچ قسمیں ہیں:(۱)صفت (۲)تاکید (۳)بدل (۴)عطف بحرف (۵)عطف بیان۔
صفت کی تعریف (۲):
صفت وہ تابع جوایسے معنی پردلالت کرے جوخود متبوع کی ذاتــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔اس سے پہلے اسم معمول کی تین حالتیں بیان ہوئی ہیں کہ وہ یاتو مرفوع ہوگا یا منصوب یا مجرور،یہ اعراب اِصالۃً اور براہ راست کا بیان تھا۔اب اُن معمولات کا بیان ہورہاہے جن پر بالتبع اعراب آتاہے۔ مثلاً:جَاءَ نِیْ زَیْدُنِ الْعَالِمُ میں زَیْدٌ مرفوع ہے؛ اس لیے کہ وہ فاعل ہے اور اَلْعَالِمُ اس کا تابع ہونے کے سبب مرفوع ہے۔ تابع :وہ دوسرا لفظ ہے جس پرایک ہی جہت سے وہی اعراب آیاہو جو پہلے لفظ پر آیا ہے ۔ یعنی اگر پہلے لفظ پر فاعل ہونے کے سبب رفع آیا ہے تو دوسرے لفظ پر بھی اسی سبب سے رفع ہو ۔پہلے لفظ کو ''متبوع''اور دوسرے کو''تابع ''کہتے ہیں۔ 2۔۔۔۔۔۔پہلا تابع صفت ہے اسے''نعت''بھی کہتے ہیں ۔ یہ وہ تابع ہے جو متبوع یا اس کے متعلق میں پائے جانے والے معنی (وصف)پر دلالت کرے ۔ پہلی قسم کو''صفت بحالہ''کہتے ہیں۔ جیسے: *