Brailvi Books

نحو مِير
101 - 202
 (۲)۔۔۔۔۔۔فعل مضارع کا حروف نواصب وجوازم سے خالی ہونا(۱): 

    یہ فعل مضارع کو رفع دیتا ہے ۔جیسے:یَضْرِبُ زَیْدٌ۔میں یَضْرِبُ اس لیے مرفوع ہے کہ وہ ناصب اور جازم سے خالی ہے۔



      (عوامل نحو کا بیان اللہ تعالی کی توفیق اور اس کی مدد سے مکمل ہوا)
   			سوالات



سوال۱: عوامل معنوی کی کتنی اور کون کون سی اقسام ہیں؟ 

سوال۲: ابتداء سے کیا مراد ہے؟ اور اس کے بارے میں مصنف نے جو اختلاف بیان کیا ہے اسے واضح کریں۔
* لفظی ہے۔ تیسرا قول یہ ہے کہ مبتداخبر میں عمل کرتاہے اور خبر مبتدامیں۔ اس لحاظ سے دونوں کا عامل لفظی کہلائے گا۔

1۔۔۔۔۔۔دوسرا عاملِ معنوی فعل مضارع میں عمل کرتاہے یعنی فعل مضارع کا عاملِ لفظی (ناصب وجازم)سے خالی ہونا۔ جیسے:لَنْ یَضْرِبَ میں مضارع منصوب ہے؛ کیونکہ اس پر ناصب آیاہے۔لَمْ یَضْرِبْ میں مجزوم ہے؛ کہ جازم آیا ہوا ہے۔ اور یَضْرِبُ اس لیے مرفوع ہے کہ لفظی عوامل سے خالی ہے ۔یہ ابن مالک کا مختارہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ'' فعل مضارع کا اسم کی جگہ واقع ہونا''اسے رفع دیتاہے ۔مثلاً:زَیْدٌ ضَارِبٌ کی جگہ کہا جاتاہے:زَیْدٌ یَضْرِبُ۔
Flag Counter