* لفظی ہے۔ تیسرا قول یہ ہے کہ مبتداخبر میں عمل کرتاہے اور خبر مبتدامیں۔ اس لحاظ سے دونوں کا عامل لفظی کہلائے گا۔
1۔۔۔۔۔۔دوسرا عاملِ معنوی فعل مضارع میں عمل کرتاہے یعنی فعل مضارع کا عاملِ لفظی (ناصب وجازم)سے خالی ہونا۔ جیسے:لَنْ یَضْرِبَ میں مضارع منصوب ہے؛ کیونکہ اس پر ناصب آیاہے۔لَمْ یَضْرِبْ میں مجزوم ہے؛ کہ جازم آیا ہوا ہے۔ اور یَضْرِبُ اس لیے مرفوع ہے کہ لفظی عوامل سے خالی ہے ۔یہ ابن مالک کا مختارہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ'' فعل مضارع کا اسم کی جگہ واقع ہونا''اسے رفع دیتاہے ۔مثلاً:زَیْدٌ ضَارِبٌ کی جگہ کہا جاتاہے:زَیْدٌ یَضْرِبُ۔