| نحو مِير |
عوامل معنویہ کی دو قسمیں ہیں :(۱)۔۔۔۔۔۔ابتداء (۲)۔۔۔۔۔۔فعل مضارع کا حروفِ نواصب وجوازم سے خالی ہونا۔
(۱)۔۔۔۔۔۔ابتداء :
یعنی اسم کا لفظی عوامل سے خالی ہونا ۔یہ مبتدا اور خبر کو رفع دیتاہے۔ مثلاً:زَیْدٌ قَائِمٌ۔اس میں زَیْدٌ مبتدا ہے اور قَائِمٌ خبر ہے۔اوریہ دونوں ابتداء کی وجہ سے مرفوع ہیں(۲)۔
تنبیہ: خیال رہے کہ مبتدا اور خبر کے عامل میں دو مذہب اورہیں: ایک یہ کہ مبتدا میں عامل ابتداء ہے اورخبر میں عامل مبتدا ہے۔ اور دوسرایہ کہ مبتدا اور خبر ایک دوسرے میں عامل ہیں۔ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔ معنوی عوامل وہ عوامل ہیں جن کا تلفظ نہیں کیا جا سکتا۔ مثلاً:''ابتداء''یعنی اسم کا عوامل لفظیہ سے خالی ہونا۔ اسی طرح'' فعل مضارع کا لفظی عوامل سے خالی ہونا''یہ چونکہ عدمی ہیں اس لیے تلفظ میں نہیں آتے بخلاف لفظی عوامل کے کہ کبھی خود ان کا تلفظ ہوتاہے ۔جیسے:اَنْ یَضْرِبَ میں اَنْ۔ اور کبھی اس پر دلالت کرنے والے کا تلفظ ہوتاہے۔ جیسے:حَتّٰی کے بعداَنْ مقدر ہوتاہے وہ خود تو پڑھنے میں نہیں آتا لیکن اس پر دلالت کرنے والاحَتّٰی پڑھا جاتاہے ۔معنوی عامل صرف دو ہیں :(۱)مبتداوخبر کاعامل: یعنی ابتداء(عوامل لفظیہ سے خالی ہونا)۔اور(۲)فعل مضارع کا عامل:یعنی نواصب وجوازم سے خالی ہونا۔ 2۔۔۔۔۔۔مبتدا وخبرکے عامل کے بارے میں ایک قول اس سے پہلے بیان ہوا یہ بصریوں کا مذہب ہے اور یہی مصنف کا مختار ہے جس کے مطابق دونوں کا عامل معنوی ہے۔دوسراقول یہ ہے کہ مبتدا کا عامل ابتدا ء ہے اور خبر کا عامل مبتدا ہے ۔اس قول کے مطابق مبتدا کا عامل معنوی اور خبر کا عامل *