Brailvi Books

مردہ بول اٹھا
26 - 32
گیا۔میں ربیع النورشریف کی سجاوٹ کے سلسلے میں مصروف تھا۔ اطلاع ملنے پَر نما زِ عصر میں جب والد صاحب کے پاس پہنچا تو مجھے ایسا لگا کہ اب شاید والد صاحب جانبر نہیں ہو سکیں گے۔ کم و بیش رات 10بجے میں نے بآوازِ بلندکَلِمَہ طَیِّبہ
لَآاِلٰہ اِلَّا اللہ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ( صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم )
کا وِرد کرنااور
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْل اللہ وَعلٰی اٰلِک واَصْحَابِکَ یا حَبِیْبَ اﷲ
پڑھنا شروع کردیا۔ والد صاحب نے جو پہلے آنکھیں نہیں کھول رہے تھے ، اچانک آنکھیں کھول دیں اور میری طرف متوجہ ہوئے ،ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ پھیلی اور گردن قبلہ رُخ ڈھلک گئی۔ دیکھا تو ان کی روح قفسِ عُنصری سے پرواز کر چکی تھی۔ پیشانی پرپسینہ اور آنکھوں سے آنسو کے قطرے بہ نکلے تھے ۔ وہی ہلکی سی مسکراہٹ تدفین تک ان کے لبوں پر کھیلتی رہی۔غسل دینے والے اسلامی بھائیوں کابیان ہے کہ غسل کے وقت انکا جسم بالکل تروتازہ تھاگویا لگتا ہی نہیں تھا کہ یہ انتقال کرچکے ہیں۔ تدفین کیلئے مسجد کمیٹی اور اَہلِ محلہ کے اِصرار پر چونکہ قبرستان مسجد کے ساتھ ہی تھا لہٰذامسجد کے قریبی حصے میں تدفین کی ترکیب بنائی گئی۔

                                                                                                                              اللہ عَزّوَجَلَّ کی اُن پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
Flag Counter