ہوگیا۔والد صاحب بھی امیرِاَہلسنّت دامت بَرَکاتُہُمُ العالیہ سے مرید ہو گئے ۔ 31-12-1994 میں جب امیرِ اَہلسنّت دامت بَرَکاتُہُمُ العالیہ گلزارِطیبہ(پنجاب) شبِ معراج کے سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کیلئے تشریف لائے اوردوسرے دن یکم جنوری بعدِ نمازِ عصر والد صاحب ملاقات کیلئے حاضر ہوئے توامیرِ اَہلسنّت دامت بَرَکاتُہُمُ العالیہ نے اشارے سے داڑھی شریف رکھنے کی ترغیب دلائی تووالد صاحب نے بلا چون و چرا نیّت کرلی اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ مرتے دم تک داڑھی شریف چہرے پر جگمگاتی رہی۔ سر پر سبز عمامہ شریف سجا رہتا۔ گھر سے T.Vنکال باہر کیا۔5سال تک دعوتِ اسلامی کے سنّتوں بھرے اجتماعی اعتکاف میں شرکت فرماتے رہے۔ایک بار دورانِ اعتکاف کھڑے ہوکر اعلان کردیا کہ مجھے دونوں بیٹوں سے کوئی دُنیوی نفع نہیں لیناآج سے یہ دعوتِ اسلامی کیلئے وقف ہیں۔قریبی مسجد کی خدمت بھی اپنے ذمہ لے لی۔مَدَنی ماحول سے عقیدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مجھے اولاد ہونے کے باوُجود'' آپ'' کہہ کر مخاطب فرماتے اور آتا دیکھ کر تعظیماً کھڑے ہوجاتے۔ ۱۰ربیع النور شریف (25-05-1999)کو''ہارٹ اٹیک'' کے باعث ہسپتال میں داخل کردیا