| مردہ بول اٹھا |
گئی۔ مگر والد صاحب کی زبان پر اِسْتِغْفار و کَلِمَہ طَیِّبہ کا وِرْداسی طرح جاری رہا۔
۱۱رَبِیْعُ النُّور شریف کی شب کم وبیش 11:30بجےوالد صاحب سَیِّد بِشارت علی عطاری علیہ رحمۃ الباری نے بلند آواز سے کَلِمَہ طَیِّبہلَآاِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ ( صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم )
پڑھا اور ہمیشہ کیلئے آنکھیں موند لیں۔
اللہ عَزّوَجَلَّ کی اُن پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہوصَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
(11) قابلِ رشک وفات
گلزارِ طیبہ(پنجاب) کے مقیم 60سالہ ملک عبدالعزیز عطاری ایک بارُعب قدآور شخصیت ہونے کے ساتھ ساتھ ٹرانسپورٹ کمپنی کے منیجر و یونین کے صدر بھی تھے۔ مَدَنی ماحول سے دوری کے باعث اِس عمر میں بھی ''تھری پیس سوٹ'' میں ملبوس رہتے۔ ان کے صاحبزادے کے بیان کا خلاصہ ہے کہ میری خوش قسمتی کہ میں اوائل عمری ہی سے تبلیغِ قراٰن و سنّت کی عالمگیر غیرسیاسی تَحریک دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہوگیا۔ گھر میں امیرِ اَہلسنّت دامت بَرَکاتُہُمُ العالیہ کے رسائل اور کیسٹیں لے آتا۔ جس کی بَرَکت سے گھر میں مَدَنی ماحول قائم ہونا شروع