تھی۔ اُن کی اُنگلی پکڑ ے پکڑ ے میں بھی اجتماع میں شرکت کی سعادت پالیتا ۔ غالباً1998 میں دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے مرحوم نگران حاجی محمد مشتاق عطاری علیہ ر حمۃ الباری اجتماعِ ذکرو نعت کیلئے تشریف لائے توان کی ترغیب پر والد صاحب نے سنّت کے مطابق داڑھی شریف سجالی۔
یوں 23سال کا طویل عرصہ گزرگیا، مَدَنی کاموں کے سلسلے میں والد صاحب کی مجھے ہمیشہ معاونت رہی اور اسی کی بَرَکت سے آج میں صوبائی مشاورت کے خادم (یعنی نگراں) کی حیثیت سے مدنی کاموں کی بَرَکتیں حاصل کر رہا ہوں ۔ ۱۰ربیع النور شریف ۱۴۲۸ھ بمطابق 09-04-2006بروز اتوار صبح8:00 بجے اچانک طبیعت خراب ہونے پر سول ہسپتال (میرپورخاص) لے جایا گیا، ڈاکٹروں نے بتایا کہ انہیں''ہارٹ اٹیک'' ہوا ہے۔ اس کے باوُجوداَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ والد صاحب کی زَبان پر اِسْتِغْفار اور یا سلامُ کا وِرْد جاری تھا۔ وَقتاً فوقتاً کَلِمَہ طَیِّبہ بھی پڑھتے ۔ اس حالت میں 4مرتبہ اٹیک ہوا، مگرحواس بحال ہوتے ہی دوبارہ اِسْتِغْفارکرنا شروع کردیتے اور کَلِمَہ طَیِّبہ پڑھنے لگتے۔
ڈاکٹروں کے مشورے پر بعدِ نمازِ مغرب حیدرآباد ہلال احمر (لطیف آباد) کیلئے روانہ ہوئے وہاں بھی ڈاکٹروں نے کا فی کوشش کی مگر طبیعت مزید بگڑتی چلی