نمازی بن گئے، بدنگاہی کے عادی نگاہیں نیچی رکھنے کی سنت پر عمل کرنے والے بن گئے،پردے کی رعایت نہ کرنے والیاں بے پردگی سے ایسی تائب ہوئیں کہ مدنی برقع ان کے لباس کا حصہ بن گیا ،ماں باپ سے گستاخانہ انداز اختیار کرنے والے اُن کا ادب کرنے والے بن گئے ،جن کی حرکتوں کی وجہ سے کبھی پورامحلہ تنگ تھا وہ سارے علاقے کی آنکھ کا تارا بن گئے ،چوری و ڈاکے کے عادی دوسروں کی عزت وآبرو کی حفاظت کرنے والے بن گئے ، کسی غریب کو دیکھ کر تکبر سے ناک بھوں چڑھانے والے عاجزی کے پیکر بن گئے ،ہر وقت حسد کی آگ میں جلنے والے دوسروں کے علم وعمل میں ترقی کی دعائیں دینے والے بن گئے ،گانے سننے کے شوقین 'سنتوں بھرے بیانات اور مدنی مذاکرات کے کیسیٹ سننے والے بن گئے ، فحش کلامی کرنے والے نعتِ مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم پڑھنے والے بن گئے ، یورپی ممالک کی رنگینیوں کو دیکھنے کے خواب اپنی آنکھوں میں سجانے والے گنبدخضریٰ کی زیارت کے لئے تڑپنے والے بن گئے ،مال کی محبت میں مرنے والے فکرِ آخرت میں مبتلاء رہنے والے بن گئے ، شراب پینے کی عادت پالنے والے عشق ِ مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے جام پینے والے بن گئے ، اپنا وقت فضولیات میں برباد کرنے والے اپنا اکثر وقت عبادت میں گزارنے کے لئے ''مدنی انعامات'' کے عامل بن گئے ، فحش رسائل وڈائجسٹ کے رسیا امیرِاہلِ سنت مدظلہ العالی وعلمائے اہل ِ سنت دامت فیوضھم کے رسائل اور دیگر دینی کتب کا مطالعہ کرنے والے بن