| مفتی دعوتِ اسلامی |
ہوگیا۔میں دعوت اسلامی سے بالکل ناواقف تھا ، میرے لیے بالکل نیا ماحول تھا اورانداز بھی دوسرے جنازوں سے بہت مختلف تھا ، رقت انگیز فضا اور نورانی چہروں نے میرے دل کو اپنی گرفت میں لے لیا ۔میں اپنا کام کاج سب بھلا کر جنازے کے ساتھ چل پڑا ، خوف خدا عزوجل اورعشق مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے ملے جلے جذبات نیز آہوں اور سسکیوں کے ساتھ مرحوم کو سپردخا ک کیا گیا ، میں اپنے قلب میں عجیب سی کیفیت لے کر پلٹا ۔
رات جب سویا تو خواب میں ایک کمرہ کے گرد بھیڑ سی دیکھی ، لوگ اس کمرے میں جھانک جھانک کر دیکھ رہے تھے میں نے بھی جھانکا تو کیا دیکھتاہوں کہ تین چارپائیاں بچھی ہیں اورتین صاحبان چادر اوڑھے ان پر لیٹے ہوئے ہیں ۔ چہرہ کسی کا نظر نہیں آرہا تھا۔ کسی نے مجھ سے کہا ، ایک چار پائی پر امام عالی مقام حضرت سیدنا امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں تو دوسری پر امام عرش مقام حضرت سیدنا امام حسین شہید کربلا رضی اللہ تعالیٰ عنہ آرام فرمارہے ہیں ۔ تیسری چارپائی والے کا مجھے نام نہیں بتایا گیا مگر ان بزرگ نے خود ہی اپنے منہ پر سے چادر ہٹالی تو میں یہ دیکھ کر حیران ہوگیا کہ آج میں نے جن کاآخری دیدار کیا ، جنازہ پڑھ کر تدفین میں حصہ لیا وہی مفتئ دعوت اسلامی حضرت علامہ مولانا محمد فاروق عطاری المدنی علیہ رحمۃ اللہ الغنی مسکراتے ہوئے میری جانب دیکھے جارہے ہیں۔
یہ خواب دیکھنے کے بعد میں مزید متاثر ہوا اور میں نے امیر اہلسنت مد ظلہ العالی