Brailvi Books

مفتی دعوتِ اسلامی
66 - 85
رضوی دامت برکاتہم العالیہ کی موجودگی میں تقریباً 2:00بجے دوپہر دعوتِ اسلامی کی مختلف مجالس کے اسلامی بھائیوں نے سنت کے مطابق تیار کی جانے والی قَبْر میں اُتارا ۔ مدینے شریف کے بہت سے تَبَرُّکَاتْ آپ کے سینے پر رکھے گئے اور امیرِ اہل سنت مدظلہ العالی کی چادرِ مبارک بھی آپ کے کفن کے اوپر بطورِ تبرک ڈال دی گئی۔ اِس دوران پُرسوز نعت خوانی کا سلسلہ بھی جاری رہا ۔قبر پر رکھی جانے والی سِلوں کی اندرونی جانب مٹی کا لیپ بھی کیا گیا تھا ،جب آخری سل رکھی جارہی تھی تو امیرِ اہلِ سنّت مدظلہ العالی نے مُضْطَرِب ہو کر ارشادفرمایا :''ٹھہر جاؤ ، مجھے اپنے مدنی بیٹے کا آخری دیدارکر لینے دو ۔''دفْن کرنے کے بعد قبر پر جو مٹی ڈالی گئی اس پر ختم شریف پڑھا گیا تھا ۔ امیرِ اہلِ سنت دامت برکاتہم العالیہ نے وہاں پر موجود اسلامی بھائیوں کو قبرپر مٹی ڈالنے کا طریقہ بتاتے ہوئے کچھ اس طرح سے ارشاد فرمایا کہ مُسْتَحَبّ یہ ہے کہ سِرہانے کی طرف دونوں ہاتھوں سے اسی قبر کی تین بار مٹّی ڈالیں پہلی بار کہیں:
مِنْھَا خَلَقْنٰکُمْ
 (اسی سے ہم نے تم کو پیدا کیا) دوسری بارکہیں:
وَفِیْھَا نُعِیْدُکُمْ
 (اور اسی میں تم کو لوٹائیں گے)اورتیسری بارکہیں:
وَمِنْھَا نُخْرِجُکُمْ تَارَۃً اُخْریٰ
 (اور اسی سے تم کو دوبارہ نکالیں گے)
    باقی مٹی ہاتھ یا کُھرپی یا پھاوڑے وغیرہ جس چیز سے ممکن ہو قبرپر ڈالیں اور جتنی مٹی قبر سے نکلی اُس سے زیادہ ڈالنا مکروہ ہے۔
    پھر امیرِ اہل سنت مدظلہ العالی نے مفتئ دعوتِ اسلامی ر حمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو منکَر نکیر کے جوابات تلقین کئے۔
Flag Counter