بانئ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا محمدالیاس عطار قادری رضوی دامت برکاتہم العالیہ نے آپ کے جنازہ کو کندھا دیا ۔ جنازے کو کندھا دینے کے خواہش مند اسلامی بھائیوں کی کثیر تعداد کے پیشِ نظر جنازے کی چارپائی کے ساتھ لمبے لمبے بانس باندھے گئے تھے۔ ہزاروں اسلامی بھائی 'مفتئ دعوتِ اسلامی علیہ رحمۃ اللہ الھادی کو لے کر تدفین کے لئے جلوس کی شکل میں صحرائے مدینہ کی طرف روانہ ہوئے۔ آپ علیہ الرحمۃ کے علاقے گلشنِ اقبال(جو کہ فیضانِ مدینہ سے چند کلومیڑ دور ہے، وہاں) تک جنازہ کندھوں پر لے جایا گیا پھر ایک ٹرک پر آپ کا جنازہ رکھا گیا ، اسی ٹرک پر امیرِ اہلِ سنت مدظلہ العالی، آپ کے بڑے شہزادے حضرتِ مولانا حاجی ابواُسید احمدعُبید رضا العطّاری المَدَنی سلمہ الغنی اورمتعدد اَراکین ِ شوریٰ بھی سُوار تھے اور یوں آپ علیہ الرحمۃ اپنے مرشدِ کامل دامت برکاتہم العالیہ کی مَعِیَّتْ میں سُوئے صَحرائے مدینہ (نزد ٹول پلازہ ،سپر ہائی وے بابُ المدینہ کراچی ) روانہ ہوگئے ۔ راستے بھر ذِکرودُرود اور نعت خوانی کا سلسلہ جاری رہا ۔