| مفتی دعوتِ اسلامی |
زاویہ میں ہے یا نہیں ؟ غور وتفکر کے بعد ظاہر ہوا کہ وہاں کی صفوف قبلہ کی سمت سے ہٹی ہوئی تھیں لیکن الحمد للہ عَزَّوَجَلَّ 45 ڈگری کے اندر اندر تھيں لہذا نماز یں دُرُست ہی ہورہی تھیں۔ یہ ان کی بصیرت ہی تھی انہوں نے اندازہ کرلیا کہ قبلہ کی سمت میں کچھ نہ کچھ غلطی ہے اور پھر اپنی مصرو فیات میں سے وقت نکال کر آنا یقینا ہم اسلامی بھائیوں کے ساتھ بڑی خیر خواہی تھی ۔
ایک مرتبہ مفتی محمد فاروق عطاری علیہ رحمۃاللہ الغنی غوثیہ مسجد(عابد ٹاؤن ،گلشن اقبال) میں معتکف تھے۔اسی دوران ایک معتکف اپنے بھائی کے بارے میں بہت مشہور کر چکے تھے کہ ان کے بھائی پر ''سُواری'' آتی ہے ۔ایک دن ان کے وُہی بھائی بھی آگئے اور سواری بھی تشریف لے آئی،اِتِّفاق سے اُس وقت وہ سُواری والے صاحب اور ان کے بھائی ،فاروق بھائی کے خیمے میں تھے۔جب سواری آئی تو سب سہم گئے اور سواری والے صاحب سے سوالات کرنے لگے۔ فاروق بھائی بڑے پُر اعتمادانداز میں اپنے کام میں مشغول رہے۔ اُس وقت تو کچھ نہ کہامگر رات کی نشست میں شیخ ِ طریقت امیراہلِسنّت مدّظلہ العالی کا رسالہ ـــ ـ''جنّات کی حکایات'' پڑھ کر سنادیا ۔جس میں سُواریوں کے ڈھکوسلوں کا ردِّبلیغ کیا گیا ہے ۔
(اللہ عزوجل کی اِن پر رحمت ہو..ا ور.. اِن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي ا للہ عليہ وسلم )
عاجزی :
مفتئ دعوتِ اسلامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی زیارت سے فیض یاب ہونے والے