| مفتی دعوتِ اسلامی |
(کنز العمال ، کتاب المعیشۃ والعادات ، الحدیث :۴۱۱۳۸،ج۱۵،ص۱۳۳،دارالکتب العلمیۃ بیروت)
پھرشیخ ِطریقت ، امیر اہل سنت ، بانئ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا محمدالیاس عطار قادری دامت برکاتہم العالیہ کا مرتب کردہ مسجد میں جانے کی چالیس نیّتوں کارسالہ(یہ کارڈ مکتبۃ المدینہ سے ھَدِیَّۃً حاصل کیا جاسکتا ہے )اور مسجد میں داخل ہونے کے بعد کوشش کرتے کہ ہر صف پر سیدھا قدم رکھیں ۔ فرض نماز ادا کرنے کے بعد سنتیں ادا کرنے سے پہلے گفتگو سے حتی الامکان گریز فرماتے ۔
(اللہ عزوجل کی اِن پر رحمت ہو..ا ور.. اِن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي ا للہ عليہ وسلم )
آپ کے علاقے گلشن ِ اقبال باب المدینہ( کراچی )کے ایک اسلامی بھائی کا بیان ہے کہ ہمارے علاقے میں ایک جگہ خریدی گئی تھی اور وہاں جائے نماز قائم کی گئی تھی۔ مفتی فاروق رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ وہاں بسا اوقات نماز ادا کرنے آیا کرتے تھے (انتقال والے دن بھی جمعہ کی نماز مفتی فاروق رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے وہیں ادا فرمائی تھی) اس جگہ پر قبلہ کی سمت کے بارے میں مفتی فاروق رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو کچھ شک گزرا ،انہوں نے مجھے فون کیا کہ فلاں دن مجھے فو ن کیجئے گا قبلہ کی سمت چیک کرنے کی تر کیب بنائیں گے ۔ غالباً میں فو ن نہ کرسکا بلکہ انہوں نے مجھے دو بارہ فو ن کیا اورکثرتِ مصروفیات کے باوجود بعد ِ عشاء خود تشریف لے آئے ۔آپ سمتِ قبلہ چیک کرنے کا آلہ بھی اپنے ساتھ لائے تھے ۔ وہیں انہوں نے بیٹھ کر کاغذ پر با قاعدہ نقشہ بنایا کہ یہاں پر صفوں کا رُخ45 ڈگری