| مفتی دعوتِ اسلامی |
مفتئ دعوتِ اسلامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ با جماعت نمازوں کا بہت زیادہ اہتمام فرماتے۔ کئی بار ٹرین سے اگر پنجاب جا نا ہوتا تو باب المدینہ کراچی سے حیدر آبادتک بس میں سفر فرماتے تاکہ نماز بآسا نی ادا ہوسکے۔ اگر ٹرین آنے میں تاخیر ہوتی تو با قاعدہ مسجد میں جا کر نماز باجماعت ادا کرنے کی کو شش فرماتے۔ ہمیشہ ہر نماز پہلی صف میں ادا کرنے کی مکمل کوشش فرماتے۔
ان کے ایک رفیق مفتی صاحب مدظلہ العالی کا بیان ہے کہ
''مفتی محمد فاروق العطاری المدنی رحمۃ اللہ علیہ بہت باعمل تھے،مدنی انعامات کے عامل تھے ۔ اکثر باوضو رہا کرتے تھے ميں نے متعدد بار انہيں وضو کے بعد نوافل (یعنی تحیۃ الوضو)ادا کرتے ديکھا ۔عموماً اذان سے قبل وضو کر ليتے اور جيسے ہی اذان ہوتی مسجد ميں چلے جاتے اور عموماً پہلی صف ميں نماز پڑھتے ميں ان کے ساتھ تقريباً چار سال رہا مگر ميں نے ان کی تکبير اولیٰ فوت ہوتے نہيں ديکھی ۔''
مفتئ دعوتِ اسلامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ وضو سے پہلے ثواب کی نیت سے عمامے کا ایک ایک پیچ کھولا کرتے ، اور غالباً اس حدیث کو پیش ِ نظر رکھتے ہوئے قبلہ رخ ہوکر عمامہ باندھا کرتے کہ حضرت معا ذ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ سرورِ عالم، نورِ مجسم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : عمامے عر ب کے تاج ہیں تو عمامہ باندھو تمہاراحلم بڑھے گا اور جو عمامہ باندھے اس کے لئے ہر پیچ پر ایک نیکی ہے ، اور جب اُتارے تو