| مفتی دعوتِ اسلامی |
انداز میں جوابات مرحمت فرماتے ،پھر عبادات یامعاملات سے متعلق درس ہوتا، پھر اس سے متعلق سوالات وجوابات کا سلسلہ ہوتا پھر تجویدوقراء ت کے اُصولوں کے مطابق مفتی صاحب قرآن مجید پڑھایا کرتے تھے ۔( تادمِ تحریراس درس کی پانچ کیسٹیں منظرِ عام پر آ چکی ہیں جنہیں مکتبۃ المدینہ سے حاصل کیا جاسکتا ہے ۔) اسی وجہ سے امیرِ اہل ِسنت، بانئ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی مدظلہ العالی آپ کو ''اُستاذُ الشُّورٰی''فرمایا کرتے تھے۔
شہید مسجد میں امامت :
مفتی دعوتِ اسلامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ایک عرصہ تک شہید مسجد کھارا در بابُ المدینہ (کراچی )میں امامت فرماتے رہے،آپ کے وصال کے بعد وہاں کی انتظامیہ کی جانب سے ایک مکتوب موصول ہوا جس میں یہ تحریرتھی،
''مفتی صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ شہید مسجد کے سابق پیش امام بھی تھے، ان سے الحمد للہ عزوجل ہمیں کوئی شکایت نہیں تھی بلکہ ان کا کمیٹی والوں پر یہ احسان ہے کہ انہوں نے کئی بار ماہواروظیفہ نہیں لیا اور کہتے تھے کہ مصروفیت کی وجہ سے میں اکثر نماز پڑھانے سے قاصر رہتاہوں ۔یہ ان کے تقویٰ کی بہترین مثال ہے ،(دعوت اسلامی کے مدنی کام کی ذمہ داریاں بڑھنے کی وجہ سے )شہید مسجد کی امامت چھوڑنے سے پہلے انھوں نے کم وبیش پانچ، چھ ماہ ، بغیر وظیفہ کے امامت کی۔''
(اللہ عزوجل کی اِن پر رحمت ہو..ا ور.. اِن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي ا للہ عليہ وسلم )