| مفتی دعوتِ اسلامی |
منزل پر پہنچنے کے بعد جب کوئی آپ کو توجہ دِلاتاکہ ہم مطلوبہ مقام پر پہنچ گئے ہیں تو آپ آنکھیں کھولا کرتے تھے ۔''
(اللہ عزوجل کی اِن پر رحمت ہو..ا ور.. اِن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)
اِطاعتِ امیر:
اطاعتِامیر کا بھی بے حد جذبہ تھا ۔ ایک مرتبہ راہِ خدا عزوجل میں سفر کے دوران جہاں آپ کا قافلہ ٹھہرا ہوا تھا ایک اسلامی بھائی نے آپ سے نکاح پڑھانے کی درخواست کی تو آپ نے ان سے کہا کہ امیرِ قافلہ سے پوچھ لیجئے اگر یہ اجازت دیں گے تو میں جاؤں گا ورنہ نہیں ۔(یاد رہے کہ امیرِ قافلہ وہ اسلامی بھائی تھے جو آپ کے ماتحت مکتب مجلس افتاء میں خادم کی حیثیت سے کام کرتے تھے ۔)
(اللہ عزوجل کی اِن پر رحمت ہو..ا ور.. اِن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)
مَدَنی مرکز کی اِطاعت :
گلشن ِ اقبال باب المدینہ (کراچی )کے ایک اسلامی بھائی کا بیان ہے کہ
''ایک مرتبہ چھٹیوں میں مدنی قافلے کی ترکیب تھی اور تاریخ بھی طے تھی کہ اچانک ہفتہ وار اجتماع میں تربیتی نشست کا اعلان ہوگیا ۔تو میں پریشانی کی حالت میں فاروق بھائی کے پاس آیا مگر انہوں نے فرما یاجیسا مدنی مرکز نے کہہ دیا ہم ویسا ہی کرینگے۔اکثر مَدَنی مشوروں وملاقاتوں میں do as directed(یعنی جیسا حکم دیا