Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
447 - 4047
باب صفۃ الجنۃ و اھلھا

جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان  ۱؎
الفصل الاول

پہلی فصل
۱؎  جنت کے معنی ہیں گھنا باغ جس میں درختوں کی وجہ سے زمین چھپی ہو۔جیم نون ملیں تو اس میں پوشدگی کے معنی ہوتے ہیں،اسی سے ہے جن،جنون،جنتی،جنہ،چونکہ جنت میں گھنے درخت ہیں،نیز وہ دنیا میں نگاہوں سے چھپی ہے،عالم غیب میں سے ہے اس لیے اسے جنت کہتے ہیں۔(مرقات و اشعہ)جنتی تین قسم ہیں:کسبی،وہبی،عطائی۔ کسبی جنتی وہ ہیں جو اعمال سے جنت میں جاویں،وہبی وہ جو کسی جنتی کے طفیل جنت میں جاویں جیسے مسلمانوں کے چھوٹے بچے،عطائی جنتی وہ مخلوق جو جنت کو پُر کرنے کے لیے پیدا کی جاویں گی مگر دوزخ صرف کسبی ہے،اپنی کرنی اپنی بھرنی۔
حدیث نمبر 447
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ  علیہ و سلم نے کہ اللہ تعالٰی فرماتا ہے کہ میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے ۱؎ وہ نعمتیں تیار کی جو نہ آنکھ نے دیکھیں اور نہ کانوں نے سنیں اور نہ کسی انسان کے دل پر ان کا خطرہ گزرا ۲؎  اگر چاہو تو یہ آیت پڑھ لو کہ کوئی نفس نہیں جانتا کہ انکے لیے کیسی آنکھ کی ٹھنڈک چھپا کر رکھی  گئی ہے۳؎ (مسلم،بخاری)
شرح
Flag Counter