| مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم |
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ ایک قوم شفاعت کے ذریعہ آگ سے ایسی نکالی جاوے گی جیسے کہ وہ ثعاریر ہوں ہم نے عرض کیا کہ ثعاریر کیا چیز ہے فرمایا وہ پتلی ککڑیا ں ہیں ۱؎ (مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ ضغابیس جمع ضغبوس کی جس کا ترجمہ پنجابی زبان میں ہے گلے،اردو میں چھوٹی ککڑی جس پر رواں ہوں وہ بہت نرم اور نازک ہوتی ہے،چونکہ ککڑی بہت جلد بڑھتی ہے اس لیے انہیں اس سے تشبیہ دی گئی کہ وہ بہت جلد بڑھیں گے۔خیال رہے کہ ان کی جسم کی سفیدی بھی شفاعت سے ہوگی لہذا یہ حدیث اس گزشتہ حدیث کے خلاف نہیں جس میں فرمایا گیا کہ وہ کوئلے ہوں گے یعنی کالے کیونکہ دوزخ سے نکلتے وقت تو وہ کالے ہوں گے مگر جنت میں پہنچتے پہنچتے سفید اور گورے ہوجائیں گے۔