| مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم |
روایت ہے حضرت حذیفہ اور ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اﷲ تعالٰی لوگوں کوجمع کرے گا ۱؎ تو مؤمن لوگ کھڑے ہوں گے ۲؎ حتی کہ جنت ان کے سامنے قریب کی جاوے گی۳؎ تو آدم علیہ السلام کے پاس حاضر ہوں گے عرض کریں گے اے والد صاحب ہمارے لیے جنت کھلوائیے۴؎ وہ فرمائیں گے کہ تم کو جنت سے نہیں نکالا مگر تمہارے والد کی خطا نے میں اس کام والا نہیں ہوں۵؎ تم میرے فرزند ابراہیم خلیل اللہ کے پاس جاؤ ۶؎ فرمایا کہ حضرت ابراہیم فرمائیں گے کہ اس کام والا میں نہیں ہوں میں تو دور کا دوست ہوں ۷؎ ان موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ جن سے خوب ہی باتیں کیں ۸؎ تو وہ موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے وہ فرمائیں گے میں اس کام والا نہیں ہوں جاؤ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جو اللہ کا کلمۃ اللہ کی روح ہیں تو حضرت عیسیٰ فرمائیں گے میں اس کام کا نہیں ہوں تب سب محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس پہنچیں گے ۹؎ آپ اٹھیں گے تو آپ کو اجازت دی جاوے گی۱۰؎ اور امانت رحمت بھیجے جائیں گے وہ پلصراط کے دو طرفہ کھڑے ہوجائیں گے ۱۱؎ دائیں بائیں ان کی پہلی جماعت بجلی کی طرح گزرے گی فرماتے ہیں میں نے عرض کیا آپ پر میرے ماں باپ فدا بجلی کے گزرنے کی طرح کون چیز ہے۱۲؎ فرمایا کیا تم بجلی کو نہیں دیکھتے کہ وہ پلک جھپکنے میں کیسے گزرتی اور جاتی ہے۱۳؎ پھر ہوا کی گزر کی طرح پھر پرندے کی طرح اور تیز مردوں کے دوڑ کی طرح ان کے اعمال انہیں لے جائیں گے۱۴؎ اور تمہارے نبی صراط پر کھڑے ہوئے فرماتے ہوں گے الٰہی سلامت رکھ سلامت رکھ ۱۵؎ حتی کہ بندوں کے اعمال عاجز رہ جائیں گے۱۶؎ یہاں تک کہ ایک شخص آئے گا جو چل نہ سکے گا سواء گھسیٹنے کے فرمایا کہ صراط سے دونوں کناروں پر کنڈے لٹکے ہوئے ہیں جوتابع حکم جس کے پکڑنے کا حکم دیئے جائیں گے۱۷؎ اسے پکڑ لیں گے تو بعض زخمی ہوکر نجات پاجائیں گے اور بعض آگ میں ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے ۱۸؎ اس کی قسم جس کے قبضہ میں ابوہریرہ کی جان ہے کہ دوزخ کی گہرائی ستر سال کی ہے ۱۹؎(مسلم)
شرح
۱؎ محشر میں ساری مخلوق جمع ہوگی،صرف انسانوں کا ذکر ان کی فضلیت کی بنا پر ہے،نیز آگے جنت کے داخلہ کا ذکر ہے جو صرف انسانوں کو میسر ہوگا۔ ۲؎ میدانِ محشر سے نجات دلانے کی درخواست تو سارے انسان کریں گے مؤمن ہوں یا کافر مگر جنت کے داخلہ کی شفاعت کی درخواست صرف مؤمن کریں گے کہ یہ نعمت صرف مؤمن انسانوں کو میسر ہوگی اس لیے یہاں مؤمنوں کا ذکر فرمایا۔ ۳؎ جنت میدان محشر سے بہت ہی دور ہوگی مگر مسلمانوں کو وہاں سے نظر بھی آوے گی اور قریب بھی محسوس ہوگی جیسے دوربین کے ذریعہ دور کی چیز قریب نظر آتی ہے اس لیے تزلف فرمایا گیا لہذا اس فرمان عالی پر یہ اعتراض نہیں ہوسکتا کہ شفاعت کی درخواست محشر میں ہے جنت پلصراط سے وراء ہے،پلصراط کروڑوں میل لمبا پل ہے پھر جنت قریب کیسے ہوگی۔ ۴؎ یعنی جنت کا بند دروازہ کھلوایئے۔معلوم ہوا کہ انہیں وہ دروازہ بھی نظر آوے گا،اس کا بند ہونا بھی محسوس ہوگا،نگاہ بہت تیز ہوگی یا یہ مطلب ہے کہ ہم کو جنت میں د اخل کرایئے کہ ہم پر وہ دروازہ آپ کی شفاعت سے کھل جاوے۔ ۵؎ یعنی تم لوگ میری پشت میں تھے اور میرے ذریعہ جنت میں تھے میں نے خطاءً گندم کھالیا باہر آیا تم بھی میری پشت میں باہر آگئے،میں تو تم کو وہاں سے لانے والا ہوں اب وہاں پہنچانے والا کوئی اور ہی ہے۔خیال رہے حضرت آدم صفی اللہ کا یہ فرمان تواضع و انکساری کی بنا پر ہوگا ورنہ واقعہ اصل یہ ہے کہ انہیں جنت سے باہر لانے والے مردود انسان ہیں کہ ان کی پشت میں کفار منافقین سب ہی تھے۔رب کی منشاءتھی کہ حضرت آدم جنت سے باہر جاویں ان مردودوں کو اپنی پشت سے نکال آویں پھر یہاں خالص ہوکر آویں رہیں بسیں،اگر آپ جنت میں رہ گئے تو یہ مردود بھی یہاں ہی پیدا ہوجائیں گے۔ ۶؎ اس حدیث میں حضرت نوح علیہ السلام کا ذکر نہیں یہاں اجمال ہے دوسری حدیث میں تفصیل ہے کہ آپ تو حضرت نوح علیہ السلام کے پاس بھیجیں گے وہ حضرات ابراہیم علیہ السلام کے پاس ان دونوں میں تعارض نہیں صرف اجمال و تفصیل کا فرق ہے۔ ۷؎ حضرت ابراہیم علیہ السلام یہ بات مؤمنین کی اس عرض کے جواب میں فرمائیں گے کہ آپ تو اللہ کے خلیل ہیں، فرمائیں گے کہ خلیل کہتے ہیں باہرکے دوست کو یہ شفاعت کبریٰ باہر کا دوست نہیں کرسکتا یہ تو اندرونی دوست جسے کہتے ہیں حبیب اللہ وہی کرسکتے ہیں۔شعر تم مغز اورپوست اور ہیں باہر کے دوست تم ہو درون سرا تم پہ کروڑوں درود خیال رہے کہ ہم کو دوستوں سے بھی محبت ہوتی ہے،اپنے عزیزو قرابت داروں سے بھی،اپنے بچوں سے بھی،اپنی بیوی سے بھی،دوست یار بیٹھک میں ملتے ہیں یہ ہیں بیرونی دوست،عزیزواقارب دار عام حالات میں گھر میں آکر ملتے ہیں یہ ہیں درون خانہ کے دوست مگر گھر کے اندر رہنے سہنے والے اپنے بال بچے ہوتے ہیں یہ ہیں اندرونی دوست۔ خلوت صرف بیوی سے ہوتی ہے یہ ہے خاص الخاص محبوبہ راز دار دوست،سارے انبیاء کرام اللہ کے پیارے ہیں مگر حضور خلوت خاص کے راز دار محبوب ہیں اس لیے موسیٰ علیہ السلام سے رب تعالٰی نے وادی سینا میں جو کلام کیا سب کچھ محبوب کو بتادیا"وَمَا تِلْکَ بِیَمِیۡنِکَ یٰمُوۡسٰی"الخ مگر جو کلام معراج کے خلوت خانہ میں اپنے اندرونی محبوب صلی اللہ علیہ و سلم سے کیا وہ کسی کو نہ بتایا"فَاَوْحٰۤی اِلٰی عَبْدِہٖ مَاۤ اَوْحٰی"وہاں اپنے بندہ کو جو وحی کی وہ کی،یہ ہے اندرون خانہ کی محبت اللھم صلی علی سیدنا محمد والہ واصحابہ وسلم۔ ۸؎ لطف یہ ہے کہ جناب خلیل کو اس وقت یہ یاد نہ رہے گا کہ وہ اندرونی دوست حبیب اللہ ہے کون تاکہ لوگوں کو تلاش کرنے کا لطف تو آوے اور سب جان لیں کہ آج سواء حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے کے اور کہیں بھیک نہیں مل سکتی یہ بھلانا ہزارہا حکمتوں سے ہوگا۔ ۹؎ لوگوں کا حضور انور کی بارگاہ میں پہنچانا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی رہبری سے ہوگا۔حضور بشارت مسیح ہیں دنیا میں بھی آخرت میں بھی،ہماری جانیں حضرت مسیح علیہ السلام پر فدا کہ وہ ہمارے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بشیر خاص ہیں اور ہوں گے یہاں بھی فرمایا تھا"وَ مُبَشِّرًۢا بِرَسُوۡلٍ یَّاۡتِیۡ مِنۡۢ بَعْدِی اسْمُہٗۤ اَحْمَدُ"۔ ۱۰؎ حضور کو کلام کرنے عرض و معروض پیش کرنے کی اجازت دی جاوے گی۔شفاعت کی اجازت تو ازل سے دی جاچکی یہ سہرا ان کے سر پر باندھا جاچکا،آپ کا لقب شفیع المذنبین ہوچکا ہے۔اعلٰی حضرت نے فرمایا شعر جس کے ماتھے شفاعت کا سہرا بندھا اُس جبینِ سعادت پہ لاکھوں سلام ۱۱؎ صلہ رحمی کرنے والوں امانت داری کرنے والوں کی شفاعت کے لیے اُن میں سے دوزخ گرتوں کو سنبھالنے کے لیے یہ دونوں وہاں کھڑے ہوں گے مگر شفاعت کبریٰ حضور ہی کریں گے دروازہ شفاعت کھل جانے کے بعد پھر دوسرے لوگ دوسری چیزیں شفاعت صغریٰ کریں گے۔ ۱۲؎ یعنی یا حبیب اللہ حضور انور ان کی رفتار کو بجلی کی کوند سے تشبیہ کس چیز میں دے رہے ہیں،ان میں کون سی چیز بجلی کی طرح ہوگی،یہ پہلا طبقہ انبیاء کرام خاص اولیاء و علماء ہوں گے۔ ۱۳؎ یعنی ہم تیز رفتاری میں بجلی سے تشبیہ دے رہے ہیں مگر سبحان اللہ! بجلی میں تیزی کے ساتھ ساتھ چمک دمک نورانیت بھی تو ہوتی ہے،ان حضرات کے چہرے چمکتے ہوں گے،سجدے کے داغ بیٹری کا کام دیں گے پلصراط ان کی وجہ سے منور ہوجائے گا۔ ۱۴؎ یعنی ان کی رفتاروں میں یہ فرق ان کے نیک اعمال اور اخلاص کے فرق کی وجہ سے ہوگا جیسا عمل جیسا اخلاص ویسی وہاں کی رفتار،یہاں اشعۃ اللمعات نے فرمایا کہ اعمال سبب رفتار ہیں اور حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی نگاہِ کرم اصلی وجہ رفتار کی ہے جتنا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے قرب زیادہ اتنی رفتار تیز۔ ۱۵؎ ظاہر یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم پلصراط کے اس محشر والے کنارہ پر قیام فرما ہوں گے،اپنے گرتوں کو سنبھالتے ہوں گے،آپ آخر میں وہاں سے تشریف لائیں گے،مکہ معظمہ سے پہلے مسلمانوں کو ہجرت کرادی آخر میں وہاں سے آپ روانہ ہوئے اس کا ظہور وہاں ہوگا۔ ۱۶؎ یعنی آخر میں وہ لوگ آئیں گے جن کو ان کے اعمال چلا نہ سکیں گے یا تو ان کے پاس اعمال نیک ہوں گے ہی نہیں یا ان میں اخلاص وغیرہ نہ ہوگا،عمل میں قوت پرواز اخلاص سے ہوتی ہے۔ ۱۷؎ اس طرح کہ جنہیں زخمی کردینے کا حکم ہے انہیں زخمی کرکے چھوڑ دیں گے اورجنہیں دوزخ میں گرانے کا حکم ہے انہیں چھید کرگرادیں گے۔خدا کی پناہ! ۱۸؎ مکروس اسم مفعول ہے،کردسۃ بمعنی ہاتھ باندھنا مکروس دست و پابستہ یعنی اس کنڈے سے ان کے ہاتھ پاؤں بندھ بھی جائیں گے اور دوزخ میں گر کربھی جائیں گے۔ ۱۹؎ لہذا جو دوزخ میں گرایا جاوے گا وہ ستر سال میں اپنے ٹھکانے پر پہنچے گا۔
۱؎ صالحین یا تو بنا ہے صلاح سے یا صلاحیت سے یعنی نیک اعمال والے بندوں کے لیے یا جنت کے قابل لوگوں کے لیے،پہلی صورت میں جنت کسبی مراد ہے،دوسری صورت میں عام جنت کسبی ہو یا وہبی یا عطائی لہذا اس حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ سواء نیک اعمال والوں کے لیے کوئی جنت میں نہ جاوے گا شفاعت وغیرہ کچھ نہیں۔ ۲؎ یعنی وہاں کی نعمتیں نہ تو بیان میں آسکتی ہیں نہ گمان میں وہ تو دیکھ کر ہی معلوم ہوں گی،اللہ تعالٰی خیریت سے دکھائے اپنے فضل و کرم سے۔خیال رہے کہ یہاں آنکھ،کان،دل سے مراد عوام مسلمانوں کے آنکھ،کان،دل ہیں ورنہ حضرت آدم علیہ السلام تو وہاں رہ کر آئے،ہمارے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج میں وہاں کی سیر فرمائی،حضرت ادریس علیہ السلام تو وہاں موجود ہی ہیں،یا یہ مطلب ہے کہ دنیا میں وہ ان جیسی نعمتیں کسی آنکھ نے نہ دیکھیں نہ سنیں،واقعی دنیا میں نہ ایسی نعمتیں ہیں نہ کسی کے دیکھنے میں آئیں۔ ۳؎ اس آیتِ کریمہ میں بھی نفس سے مراد عالم لوگ ہیں،آنکھ کی ٹھنڈک سے مراد دل کی خوشی و سرور کے اسباب ہیں جن سے دل چین میں رہیں،آج بیٹے کو کہا جاتا ہے قرۃ العین۔اس آیت و حدیث سے معلوم ہوجاتا ہے کہ جنت اور وہا ں کی نعمتیں پیدا ہوچکی ہیں،کیوں نہ ہو کہ حضرتِ آدم و حوا وہاں رہ چکے ہیں اور ہمارے حضور دیکھ آئے ہیں، وہاں کی بہت سی نعمتیں اب دنیا میں بھی آرہی ہیں،نیل و فرات وہاں سے آرہی ہیں حجر اسود جنت سے ہی آیا ہے۔