Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
439 - 4047
حدیث نمبر 439
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اللہ عزوجل نے مجھ سے وعدہ فرمایا کہ میری امت میں سے چار لاکھ کو بغیر حساب جنت میں داخل کرے گا ۱؎  تو جناب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یارسول اللہ ہم کو اور زیادہ دیجئے فرمایا اور اس طرح پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھ ملائے ان کا لپ بھرا ۲؎  اور حضرت ابوبکر نے عرض کیا یارسول اللہ ہمیں زیادہ دیجئے ۳؎  فرمایا اور ایسے تو حضرت عمر نے فرمایا اے ابوبکر ہمیں چھوڑو بھی۴؎  تو ابوبکر نے فرمایا تمہارا کیا حرج ہے کہ ہم سب کو اللہ جنت میں داخل فرمائے ۵؎  تو حضرت عمر نے فرمایا کہ اگر اللہ چاہے تو ایک مٹھی میں ساری خلقت کو جنت میں داخل کردے وہ کرسکتا ہے ۶؎ تب نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ عمر نے سچ کہا ۷؎(شرح سنہ)
شرح
۱؎ یہ تعداد حضور کی امت کی ہے جو احکام شرعیہ کے مکلف تھے،حضرات انبیاءکرام مؤمنوں  کے فوت شدہ ناسمجھ بچے دیوانے جو دیوانگی میں فوت ہوئے ان کا کچھ حساب نہیں۔حضرات انبیاء کرام کا بھی حساب نہیں اس کی تائید وہ آیت فرمارہی ہے"یَدْخُلُوۡنَ الْجَنَّۃَ یُرْزَقُوۡنَ فِیۡہَا بِغَیۡرِ حِسَابٍ"۔

۲؎  یعنی ان چار لاکھ کے علاوہ رب تعالٰی کے لپ(بک)بھر اور بھی بغیر حساب جنت میں جائیں گے کہ حق تعالٰی ان مؤمنوں  کو اپنے دونوں دست قدرت میں لے کر وہاں پہنچادے گا۔خدا کرے ہم بھی اس میں آجاویں۔منہ چھوٹا ہے طلب بڑی ہے،وہ قدرتوں والا ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ جمع فرماکر یہ بتایا کہ رب تعالٰی مٹھی بھرکر نہیں بلکہ دونوں ہاتھوں سے لپ بھرکر بخشے گا۔

۳؎  یعنی اور زیادہ بخشش کی خبر دیجئے یا اور زیادہ بخشش کرائیے کہ حضور دعا فرمائیں کہ رب اس سے بھی زیادہ کو بے حساب بے عذاب بخشے کیونکہ رب تعالٰی آپ کی بات ٹالتا نہیں جو تم کہتے ہو وہ ہی رب کرتا ہے"وَ لَسَوْفَ یُعْطِیۡکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰی"۔

۴؎  یعنی اے ابوبکر یہ اجمال رہنے دو زیادہ کی تصریح نہ کراؤ تاکہ ہم خوف و امید پر رہیں اعمال کیے جاویں۔

۵؎  یعنی اے عمر ذرا خاموش تو رہو،میں حضور سے ساری امت رسول کے لیے بے حساب جنتی ہونے کا وعدہ لے لیتا ہوں اے عمر تمہارا اس میں کیا بگڑتا ہے کہ سارے امتی رسول اللہ بے حساب جنتی ہوجاویں۔خیال رہے کہ اللہ رسول کے بعد حضرت ابوبکر صدیق سب سے بڑھ کر رحیم و کریم ہیں۔ان کا رحم و کرم تو مجھ سے پوچھو اللہ ان کی قبر نور سے بھردے،مجھ پر ان کا ان کی دختر جمیلہ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ سورۂ نور والی نورانی کا بہت ہی احسان ہے۔

۶؎  یعنی اے ابوبکر تم جو کچھ چاہتے ہو وہ تو حاصل ہوگیا کہ صرف چار لاکھ کا حضور نے ذکر نہیں فرمایا ساتھ ہی رب کے لپ بھر کا بھی ذکر ہے یہ لپ بڑا ہی وسیع ہے۔

۷؎  خیال رہے کہ حضرت ابوبکر صدیق کی عرض و معروض میں غلبہ امید کی جھلک ہے اور حضرت عمر فاروق کی عرض معروض میں رضا بالقضاء کا ظہور ہے اس لیے حضرت عمر کے قول کی تائید بارگاہِ نبوت سے ہوئی،نیز سب لوگ بغیر حساب بخش دیئے جائیں تو شفیعوں کی شفاعت،محبوبوں کی محبوبیت،گرتوں کے سہارے دینے والے،ڈوبتوں کے ترانے، بگڑتوں کو بنانے،گرتوں کے سنبھالنے کا ظہور کیسے ہو اس لیے حضرت عمر کے قول کو ترجیح دی گئی اور بھی بہت وجوہ ہوسکتی ہیں قیامت میں گنہگاروں کو بخشنا بھی مگر محبوبیت کی شان بندہ نوازی بھی تو دکھانی ہے۔
Flag Counter