| مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم |
روایت ہے حضرت ابی سعید سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ میری امت میں سے بعض وہ ہیں جو ایک جماعت کی شفاعت کریں گے،بعض وہ جو ایک خاندان کی شفاعت کریں گے،بعض وہ ہیں جو ایک کنبہ کی شفاعت کریں گے ۱؎ بعض وہ ہیں جو صرف ایک آدمی کی شفاعت کریں گے حتی کہ یہ لوگ جنت میں داخل ہوجائیں گے۲؎(ترمذی)
شرح
۱؎ فئام جمع ہے اس کا واحد کوئی نہیں۔اس کے معنی ہیں جماعت،بعض نے فرمایا یہ جمع ہے فئۃ کی۔قبیلہ وہ جماعت جو ایک دادا کی اولاد ہو۔عصبۃ بھی جمع ہے جس کا واحد کوئی نہیں،یہ دس سے چالیس تک پر بولی جاتی ہے۔اس حدیث کی تفصیل دوسری احادیث میں وارد ہے کہ حافظ پانچ پشت کی،عالم چودہ پشت کی،شہید اتنی جماعت کی شفاعت کریں گے وغیرہ۔ہم پہلے عرض کر چکے ہیں کہ قیامت میں اولًا عدل الٰہی کا ظہور ہوگا،اس وقت حضور کے سوا کوئی شفاعت نہ کرے گا،بعد میں فضل الٰہی کا ظہور ہوگا اس وقت اور حضرات بھی شفاعت کریں گے۔یہاں دوسرے وقت کا ذکر ہے اس وقت مؤمنین بھی شفاعت کریں گے۔من امتی فرمانے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شفاعتیں امت محمدیہ کے لیے ہیں کہ ان کے علماء صالحین شفاعت کریں دوسری امتوں کے علماء وصلحاء کو یہ درجے نہ ملیں گے۔واللہ اعلم و رسولہ اعلم! ۲؎ اس سے معلوم ہوا کہ حضور انور کی ساری امت جنتی ہے کوئی پہلے ہی سے جنت میں پہنچ جاوے گا کوئی کچھ سزا بھگت کر،یہ ہی مطلب ہے اس حدیث کا کہ "من قال لا الہ الا اللہ دخل الجنۃ"حتی شفاعت کی انتہا کے لیے ہے یعنی یہ شفاعت ہوتی رہے گی یہاں تک کہ سارے مسلمان جنت میں پہنچ جاویں۔