Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
440 - 4047
حدیث نمبر 440
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ دوزخی لوگ صف بستہ ہوں گے ۱؎ تو جنتیوں میں سے ایک شخص ان پرگزرے گا تو ان میں سے ایک دوزخی کہے گا اے فلاں کیا تو مجھے پہچانتا نہیں میں وہ ہی ہوں جس نے تجھے ایک گھونٹ پانی پلایا تھا  اور بعض دوزخی کہے گا کہ میں وہ ہوں جس نے وضو کا پانی دیا تھا۲؎ یہ جنتی ان کی شفاعت کرے گا پھر اسے جنت میں داخل کرے گا۳؎(ابن ماجہ)
شرح
۱؎ یعنی جنتیوں کے راستے میں گنہگار مؤمن دوزخ میں جانے کے لیے ایسے صف بستہ کھڑے ہوں گے جیسے امیر وغنی کے راہ میں بھکاری صفت بستہ کھڑے ہوتے ہیں۔(مرقات)ان سے آس لگائے کہ کوئی ہمیں پہچان لے اور چھڑائے ادھر جنتی آگے پیچھے گزر رہے ہوں گے۔

۲؎  یا میں نے تجھے فلاں وقت کھانا کھلایا،یا میں نے تجھے فلاں وقت سلام کیا تھا،یا فلاں وقت کپڑا دیاتھا،یا فلاں وقت تیرے پاس محبت سے کچھ معمولی ہدیہ پیش کیا تھا۔غرضکہ ڈوبتا ہوا تنکے کا سہار الیتا ہے یہ بھی اسی طرح سہارا لے گا،یہ دو چیزیں بطور مثال ارشاد ہوئی ہیں۔(مرقات)

۳؎  اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ صالحین،علماء،شہداء کی شفاعت برحق ہے۔دوسرے یہ کہ شفاعت سے ہم جیسے گنہگاروں کی تقدیریں پلٹ جائیں گی،دیکھو یہ پکارنے والا دوزخیوں کی صف میں آگیا تھا شفاعت کی برکت سے وہاں سے نکل کر جنتی ہوگیا دنیا میں بھی یہ ہی حال ہے دعا سے قضا بدل جاتی ہے۔تیسرے یہ کہ ہم جیسے گنہگاروں کو چاہیے کہ صالحین مقبولین کی خدمت کیا کریں ان کی خدمت بڑی کام آوے گی،ان سے تعلق رکھیں ان سے تعلق بہت فائدہ دے گا،انہیں ہدیہ پیش کریں اگرچہ کھجور کی کھانپ یا اچھی بات ہی ہو،یہ تیسری بات مرقات اور اشعہ نے فرمائی۔چوتھے یہ کہ رب تعالٰی کی قدرت یہ ہے کہ ہر ایک کو براہ راست بغیر وسیلہ ہر چیز دے مگر قانون یہ ہے کہ گنہگاروں کو نیک کاروں کے وسیلے سے دے،دیکھو ان دوزخی صفوں والوں کو رب تعالٰی ہی بخشے گا مگر جنتی راہ گزروں کی شفاعت سے بلکہ ان لوگوں کوجنتیوں کے راستہ میں اسی لیے کھڑا کرے گا کہ انہیں ان کے ہاتھوں شفاعت کی بھیک ملے۔پانچویں یہ کہ دنیا میں اللہ والوں سے تعلق چاہیے،ان کا دیکھنا بھی کل قیامت میں کام آوے گا۔شعر

اُٹھ جاگ فریدا ستیا خلقت ویکھن جا		مت کوئی بخشیا مل پوے تے تو وی بخشیا جا

دیکھو قیامت میں یہ جان پہچان کام آوے گی۔یدخلہ الجنۃ فرماکر یہ بتایا کہ وہ جنتی اس دوزخی کو اپنے ساتھ جنت میں لے جاوے گا۔شعر

میں مجرم ہوں آقا مجھے ساتھ لے لو		کہ رستہ میں ہیں جا بجا تھانے والے 

چھٹے یہ کہ قیامت میں لوگوں کو اپنے اچھے برے اعمال یاد ہوں گے،یہاں کی دوستیاں آپس کے سلوک یاد ہوں گے، ایک دوسرے کی پہچان ہوگی۔ساتویں یہ کہ وفات یافتہ بزرگوں کی فاتحہ ختم وغیرہ ان شاءاللہ قیامت میں کام آوے گی کہ اس میں بھی ان حضرات کی خدمت میں کھانے پانی وغیرہ کا ثواب ہدیہ کیا جاتا ہے۔ممکن ہے کہ انکے ذریعہ ہم کو ان کی شفاعت نصیب ہو جاوے سقیتك شربۃ یہ الفاظ یاد رکھو۔
Flag Counter