Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
437 - 4047
حدیث نمبر 437
روایت ہے حضرت عبداللہ ابن ابی الجدعاء سے ۱؎  فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ میرے ایک امتی کی شفاعت سے ۲؎  قبیلہ بنی تمیم سے زیادہ لوگ جنت میں جائیں گے۳؎(ترمذی،دارمی،ابن ماجہ)
شرح
۱؎ آپ صحابی ہیں،قبیلہ بنی کنانہ سے ہیں،آپ سے صرف دو حدیثیں مروی ہیں ایک یہ،دوسری کنت نبیاو آدم فی الروح و الجسد۔(اشعہ و مرقات)

۲؎  وہ صاحب حضرت عثمان غنی ہیں رضی اللہ عنہ۔بعض نے فرمایا حضرت اویس قرنی ہیں جو تابعی ہیں۔یا یہ مطلب ہے کہ میری امت کے ایک ایک بزرگ کی شفاعت سے اتنے اتنے لوگ بخشے جائیں گے۔پہلی دو باتیں مرقات نے فرمائیں،آخری بات اشعۃ اللمعات نے۔

۳؎  خیال رہے کہ اس شفاعت سے مراد شفاعت صغریٰ ہے کیونکہ شفاعت کبریٰ صرف حضور ہی کریں گے۔بنی تمیم عرب کا بہت بڑا قبیلہ ہے،جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ایسی شفاعت کریں گے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت تو عالم کے خیال سے وراء ہے،ان کی شفاعت سے تقدیریں بدل جاویں گی،سب کی مشکلیں حل ہوجاویں گی۔

شعر۔

ایسی بندھی نصیب کھلے مشکلیں کھلیں 		دونوں جہاں میں دھوم تمہاری کمر کی ہے
Flag Counter