| مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم |
روایت ہے حضرت عوف ابن مالک سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میرے پاس رب تعالٰی کے پاس سے آنے والا آیا تو مجھے اختیار دیا ۱؎ اس کا کہ میری آدھی امت جنت میں داخل فرمائے اور درمیان شفاعت کے۲؎ تو میں نے شفاعت اختیار فرمائی یہ شفاعت اس شخص کے لیے ہے جوکسی چیز کو اللہ کا شریک نہ ٹھہرائے۳؎(ترمذی،ابن ماجہ)
شرح
۱؎ یعنی حضرت جبریل امین یا کوئی اور فرشتہ یہ حکم رب العالمین کا ہمارے پاس پیغام لایا جس میں مجھے اختیار دیا۔سبحان اللہ! اللہ تعالٰی ہمارے حضور کو ان سے پوچھ کر دیتا ہے،یہ ہے محبوبیت"وَ لَسَوْفَ یُعْطِیۡکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰی"۔شعر خدا کی رضا چاہتے ہیں دو عالم خدا چاہتا ہے رضاء محمد ۲؎ اس طرح کہ محبوب تم جتنوں کی شفاعت کرو اتنوں کو بخش دوں،پہلے صورت میں حد بندی ہے اس میں بے حد عطا کا وعدہ ہے اس لیے حضور انور نے اسی کو اختیار فرمایا کہ میرے مولٰی میں بخشواتا جاؤں تو بخشتا جا۔شعر قدرت کی تحریریں جانے امُی اور تقریریں جانے بخشش کی تدبیریں جانےوہ ہے رحمت والا جن کا نام ہے محمد ان سے دو جگ ہے اجیالا ۳؎ یہاں شرک سے مراد کفر ہے،کسی یقینی عقیدہ اسلامیہ کا انکار کفر ہے۔خیال رہے کہ خوارج بعض معتزلہ اور اسمٰعیلی وہابی شفاعت کے انکاری ہیں وہ بالکل ٹھیک کہتے ہیں واقعی ان بدنصیبوں کی شفاعت نہ ہوگی خوارج اور معتزلہ کا انکارِ شفاعت تو مرقات میں اس جگہ ہے اور اسماعیلیہ کا انکار تقویۃ الایمان میں دیکھو۔