۱؎ ہم پہلے عرض کرچکے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت بہت قسم کی ہے جن میں سے ایک شفاعت گناہ کبیرہ والوں کے لیے ہے یہاں وہ ہی شفاعت مراد ہے یعنی معافی گناہ کی شفاعت۔اس سے معلوم ہوا کہ جس کا خاتمہ بالخیر ہوگیا وہ شفاعت کا حقدار ہوگیا اگرچہ کیسا ہی گنہگار ہو۔جس حدیث میں ہے کہ ہم زکوۃ نہ دینے والوں کی شفاعت نہ کریں گے وہاں منکرین زکوۃ مراد ہیں جو کافر و مرتد ہیں کہ فرض کا انکار کفر ہے۔جب گناہ کبیرہ والوں کی شفاعت ہوگی تو زکوۃ نہ دینا گناہ صغیرہ ہے اس کی شفاعت کیوں نہ ہوگی۔خیال رہے کہ سواء چند گناہوں کے باقی گناہ صغیرہ ہیں۔دیکھو مرآت جلد اول باب الکبائر۔یہ حدیث بڑی ہمت افزا ہے،حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا سے فرمایا کہ میں تم سے عذاب دفع نہیں کرسکتا وہاں یہ ہی مطلب ہے کہ اگر تم نے ایمان قبول نہ کیا تو شفاعت سے محروم رہوگی۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ شفاعت عقلًا جائز ہے اور شرعًا واجب کہ اس پر بہت آیات واحادیث وارد ہیں۔ہم نے شفاعت کی مکمل بحث تفسیرنعیمی میں"مَنۡ ذَا الَّذِیۡ یَشْفَعُ عِنْدَہٗۤ اِلَّا بِاِذْنِہٖ"میں کی ہیں وہاں ملاحظہ کرو۔