۱؎ حوض کے معنی ہیں پانی کاجمع ہونا اور بہنا،اسی سے ہے حیض،رحم سے خون بہنا۔ اصطلاح میں پانی کے تالاب کو حوض کہا جاتا ہے۔حضور کے حوض دو ہیں: ایک میدان محشر میں،دوسرا جنت میں،دونوں کا نام کوثر ہے۔محشر والے حوض کا پانی مؤمنوں کو وزن کے عمل سے پہلے ملے گا۔تمام نبیوں کے الگ الگ حوض ہوں گے،حضور کے حوض کانام کوثر ہے، کوثر کے معنی ہیں بہت ہی زیادہ۔(مرقات)بعض شارحین نے فرمایا کہ حوض کوثر ایک ہی ہے جنت میں وہاں سے ایک نہر میدان محشر میں آوے گی۔
۲؎ شفاعت بنا ہے شفع سے بمعنی ملنا اور جوڑا ہوا اس کا مقابل ہے وتر،رب فرماتا ہے:"وَ الشَّفْعِ وَ الْوَتْرِ"الخ۔ شفیع وہ جو قیامت میں گنہگاروں سے مل کر انہیں اپنے سینے سے لگالے گا،اب اس کا ترجمہ ہوتا ہے سفارش۔شفاعت دو قسم کی ہے: شفاعت کبریٰ اور شفاعت صغریٰ۔شفاعت کبریٰ صرف حضورکریں گے،اس شفاعت کا فائدہ ساری خلقت حتی کہ کفارکو بھی پہنچے گا کہ اس شفاعت کی برکت سے حساب کتاب شروع ہوجاوے گا اور قیامت کے میدان سے نجات ملے گی،یہ شفاعت قیامت کے اول وقت جب کہ عدل خداوندی کا ظہور ہوگا حضور ہی کریں گے،اس وقت کوئی نبی اس شفاعت کی جرأت نہ فرمائیں گے۔شِفاعت صغریٰ ظہور فضل کے وقت ہوگی یہ شفاعت بہت لوگ بلکہ قرآن،رمضان، خانہ کعبہ بھی کریں گے۔حضور صلی اللہ علیہ و سلم رفع درجات کے لیے صالحین حتی کہ نبیوں کی بھی شفاعت فرمائیں گے اور گناہوں کی معافی کے لیے ہم گنہگاروں کی شفاعت کریں گے لہذا آپ کی شفاعت سے انبیاءکرام بھی فائدہ اٹھائیں گے۔اللھم ارزقنا شفاعۃ حبیبك صلی اللہ علیہ وسلم۔حضور کی شفاعت ہم گنہگاروں کا سہارا ہے۔شعر
گرتےہوؤں کو مژدہ سجدےمیں گرےمولیٰ رو رو کے شفاعت کی تمہید اٹھائی ہے
حضور کی شفاعت نو قسم کی ہے:(۱)حساب شروع کرانے کے لیے جس کا فائدہ سب کو ہوگا(۲)بے حساب جنتیوں کو جنت میں پہنچانے کے لیے(۳)جن کی نیکیاں بدیاں برابر ہوں ان کی نیکی کا پلہ وزنی کرانے کے لیے(۴)ہم جیسے دوزخ کے لائق لوگوں کو چھڑانے کے لیے(۵)صالحین کے درجے بلند کرانے کے لیے(۶)دوزخ میں گرے ہوئے گنہگاروں کو وہاں سے نکلوانے کے لیے(۷)جنت کا دروازہ کھلوانے کے لیے(۸)اہل مدینہ اور زائرین روضۂ رسول کو اپنا قرب دلوانے کے لیے۔(اشعہ)(۹)بعض کفار کا عذاب ہلکا کرانے کے لیے۔(اشعۃ اللمعات)