Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
406 - 4047
حدیث نمبر 406
روایت ہے حضرت اسماء بنت یزید سے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا لوگ قیامت کے دن ایک میدان میں جمع کیے ۱؎  جاویں گے توپکارنے والا پکارے گا کہ وہ لوگ کہاں ہیں جن کے پہلو اپنی خواب گاہوں سے الگ رہتے تھے۲؎ پس وہ لوگ کھڑے ہوجائیں گے اور وہ تھوڑے ہوں گے۳؎ تو وہ جنت میں بغیر حساب داخل ہوں گے۴؎ پھر باقی تمام لوگوں کو حساب کی طرف جانے کا حکم دیا جاوے گا ۵؎(بیہقی شعب الایمان)
شرح
۱؎ صعید چٹیل سفیدہ ہموار زمین کو کہتے ہیں،یہ زمین شام یا زمین فلسطین ہوگی جہاں قیامت قائم ہوگی،اس جگہ سب اچھے برے اکٹھے ہوں گے یعنی سارے مؤمن ،رہے کفار تو وہ پہلے ہی چھانٹ دیئے گئے ہوں گے" وَامْتٰزُوا الْیَوْمَ اَیُّہَا الْمُجْرِمُوۡنَ"فرماکر۔

۲؎  یعنی پابندی سے نما تہجد پڑھنے والے مسلمان پہلے حاضر ہوں جن کا حال یہ تھا کہ رات کے آخری حصہ میں جب سب سوتے ہیں تویہ مصلوں پر روتے تھے۔بعض لوگوں نے کہا کہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو عشاء اور فجر جماعت سے پڑھتے ہیں مگر پہلا قول قوی ہے کیونکہ تہجد والے لوگ تھوڑے ہوں گے یہاں ارشاد ہے وھم قلیل۔

۳؎  یعنی مسلمانوں میں تہجد پر پابند تھوڑے ہی ہوں گے،رب فرماتاہے:"قَلِیۡلًا مِّنَ الَّیۡلِ مَا یَہۡجَعُوۡنَ"اور فرماتاہے:"وَ قَلِیۡلٌ مِّنْ عِبَادِیَ الشَّکُوۡرُ"اور فرماتا ہے:"اِلَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ قَلِیۡلٌ مَّا ہُمْ"۔(مرقات)

۵؎  اس سے معلوم ہوا کہ تہجد کی نماز پر پابندی ذریعہ ہے قیامت کے حساب سے بچنے کا،رب فرماتاہے:" اِنَّمَا یُوَفَّی الصّٰبِرُوۡنَ اَجْرَہُمۡ بِغَیۡرِ حِسَابٍ"۔خیال رہے کہ یہ لوگ اس وقت جنت کے دروازے پر توپہنچ جائیں گے مگر ابھی وہاں داخلہ نہ ہوں گا کیونکہ جنت کا دروازہ پہلے حضور کے لیے کھولا جائے گا اور حضور گنہگاروں کو بخشوا کر حساب دلوا کر جنت کی طرف روانہ ہوں گے۔یدخلون کے معنی ہیں دخول کے مستحق ہوجائیں گے لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں۔

۶؎  یعنی تہجد والوں کو یہ حکم روانگی سناکر پھر دوسروں کا حساب شروع ہوگا۔
Flag Counter