Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
405 - 4047
حدیث نمبر 405
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے اس دن کے متعلق پوچھا گیا ۱؎ جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے کہ اس دن کی کتنی درازی ہے ۲؎ تو فرمایا اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ وہ دن مؤمن پر ہلکا کردیا جاوے گا حتی کہ اس پر اس فرض نماز سے بھی زیادہ آسان ہوجاوے گا جسے وہ دنیا میں پڑھتا تھا۳؎(بیہقی کتاب البعث والنشور)
شرح
۱؎ یعنی میری موجودگی میں یہ سوال کسی اور نے کیا میں نے سوال بھی سنا حضور کا جواب بھی۔

۲؎  یعنی کتنی دراز مدت ہے اللہ اکبر! یہ ما اظہار تعجب کے لیے ہے۔یارسول اللہ اس مدت میں لوگوں کا کیا حال ہوگا کیسے کھڑے رہ سکیں گے۔(مرقات)

۳؎  قرآن مجید میں قیامت کو ایک ہزار سال بھی فرمایا گیا ہے اور پچاس ہزار سال بھی،اس حدیث شریف نے اسے چار رکعت نماز سے بھی کم فرمایا یہ اختلاف احساس کا ہے دن تو پچاس ہزار برس ہی کا ہے مگر کسی کو ایک ہزار سال محسوس ہوگا کسی کو چار رکعت نماز کی بقدر۔

کسی کی شب وصل سوتے کٹے ہے		کسی کی شب حجر روتے کٹے ہے

الٰہی   ہماری   یہ   شب   کیسی   آئی			نہ سوتے کٹے ہے نہ روتے کٹے ہے
Flag Counter