| مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم |
روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے عرض کیا مجھے خبر دیجئے کہ قیامت کے دن کھڑے ہونے پر کون قدرت رکھے گا جس کے متعلق اللہ عزوجل نے فرمایا کہ جس دن لوگ رب العالمین کے حضور کھڑے ہوں گے ۱؎ تو فرمایا کہ وہ دن مؤمن پر ہلکا کردیا جاوے گا حتی کہ اس پر ایک فرض نماز کی طرح ہوجاوے گا ۲؎
شرح
۱؎ یعنی قرآن کریم کی ایک آیت فرما رہی ہے کہ قیامت کا دن پچاس ہزار برس کا ہوگا"خَمْسِیۡنَ اَلْفَ سَنَۃٍ"۔ دوسری یہ آیت فرمارہی ہے کہ اس دن کسی کو بیٹھنے لیٹنے کی اجازت نہ ہوگی سب کھڑے ہی ہوں گے تو اتنی دراز مدت تک کون کھڑا رہ سکے گا،حضرت عبد اللہ ابن عمر نے یہ ہی سورت تلاوت کی جب اس آیت پر پہنچے توپھوٹ کر رونے لگے حتی کہ آگے نہ پڑھ سکے۔(مرقات) ۲؎ یہاں نماز فرض سے مراد نماز کا وقت نہیں بلکہ اداء نماز مراد ہے نماز بھی چار رکعت والی یعنی مؤمن متقی کو قیامت کا دن ایسا معلوم ہوگا جیسے اس نے چار رکعت نماز فرض پڑھی۔فرض کی قید اس لیے لگائی کہ بمقابلہ سنت و نفل کے فرض جلد ادا کیے جاتے ہیں کہ اس کی آخری دو رکعت خالی ہوتی ہیں،نیز اس میں قومہ اور جلسہ سے دعائیں نہیں ہوتیں۔خیال رہے کہ غم کی تھوڑی مدت بہت محسوس ہوتی ہے اور خوشی کی دراز مدت کا کم احساس ہوتا ہے،وصال کی رات منٹوں میں فراق کی رات گھنٹوں میں،درد و بیماری کی بے خوابی کی رات سالوں میں گزرتی معلوم ہوتی ہے،مؤمن دیدار مصطفی دیدار خدا کی خوشی میں پھولا نہ سمائے گا اسے قیامت کیا معلوم ہو۔